“سیاسی تاریخ گواہ ہے، پابندیاں سیاست کا راستہ نہیں روک سکتیں—تو پھر پی ٹی آئی کیوں خاموش ہے؟”
پس منظر: سیاسی جماعتوں پر پابندیاں اور ان کا ردعمل
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی جماعتوں پر پابندیاں لگیں، لیکن انہوں نے میدان خالی نہیں چھوڑا۔
-
پیپلز پارٹی (ضیاء الحق دور میں) نے کوڑے کھائے، مگر جدوجہد جاری رکھی۔
-
نواز شریف کی جماعت (مشرف دور میں) جلاوطنی کاٹی، مگر سیاسی منظرنامے میں واپس آئی۔
-
جماعت اسلامی پر بھی مختلف ادوار میں پابندیاں لگیں، مگر انہوں نے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
🧭 موجودہ صورتحال: پی ٹی آئی پر پابندی نہیں، مگر سرگرمیاں محدود
-
تحریک انصاف پر سرکاری طور پر کوئی مکمل پابندی نہیں لگی، مگر:
-
قیادت گرفتار یا زیر زمین ہے
-
میڈیا بلیک آؤٹ
-
کارکن خوفزدہ یا غیر فعال
-
انتخابی عمل سے عملاً دوری
-
❓ سوال یہ ہے: میدان کون چھوڑ رہا ہے؟
-
ریاست یا پی ٹی آئی؟
-
کیا پی ٹی آئی نے سیاسی اسٹریٹجی سے کنارہ کشی کی ہے؟
-
یا وہ نئی حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے جو نظر نہیں آ رہی؟
🔄 موازنہ: دیگر جماعتوں سے پی ٹی آئی کا طرزِعمل
| جماعت | حالات | ردعمل |
|---|---|---|
| پیپلز پارٹی | آمریت، پابندی | مزاحمت، جیلیں، مظاہرے |
| نواز لیگ | جلاوطنی، مقدمات | واپسی، نعرے، عدالتیں |
| پی ٹی آئی | جزوی پابندی، گرفتاری | خاموشی، انتخابی بائیکاٹ |
🔍 ممکنہ وجوہات: پی ٹی آئی کی پسپائی
-
قیادت کا عدم اتحاد
-
قانونی کیسز کا خوف
-
عوامی رابطے کی کمی
-
حکومتی دباؤ کا مؤثر ہونا
🚨 نتیجہ: سیاست میں خلا مستقل نہیں رہتا
اگر کوئی جماعت خود کو میدان سے باہر رکھتی ہے، تو دوسرا اسے بھر دیتا ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے — واپسی یا گمنامی؟



