سیاسی محاذ پر گھمسان — وزیرِ دفاع خواجہ آصف کو عوامی مینڈیٹ، اختیارات اور پارٹی اختلافات پر کڑی تنقید کا سامنا

اسلام آباد — پاکستان کی سیاست میں اس وقت ایک نیا تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے جہاں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کو نہ صرف میڈیا اینکرز اور مخالف جماعتوں کی تنقید کا سامنا ہے بلکہ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی ان کے خلاف غیر معمولی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایک حالیہ ٹاک شو میں ایک سینئر اینکر نے براہِ راست خواجہ آصف کو ان کی “اوقات” یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس حقیقی عوامی مینڈیٹ نہیں اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ تنقید اس تاثر سے جڑی ہے کہ ملکی دفاعی پالیسی کے اصل فیصلے عسکری قیادت کے ہاتھ میں ہیں اور وزیرِ دفاع کا کردار زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے۔ اس پس منظر میں مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر وزیر کے پاس پالیسی پر اثرانداز ہونے کا اختیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ پارٹی کے کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ خواجہ آصف کی میڈیا پر جارحانہ بیانات اور بعض حساس معاملات پر غیر لچکدار مؤقف سے حکومت کو سیاسی نقصان پہنچ رہا ہے۔ بعض رہنماؤں نے نجی ملاقاتوں میں شکایت کی ہے کہ اس وقت پارٹی کو ٹھنڈے مزاج کی ضرورت ہے، نہ کہ محاذ آرائی کی۔

خواجہ آصف، جو این اے-71 سیالکوٹ سے کئی بار رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں، ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور خود کو عوامی نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ملکی مفاد میں اپنے خیالات کھل کر بیان کرتے ہیں، چاہے وہ کچھ حلقوں کو ناگوار گزریں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تنازعہ محض ایک شخص یا عہدے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس بڑے سوال کا عکاس ہے کہ پاکستان میں دفاعی پالیسی سازی میں عوامی مینڈیٹ رکھنے والے وزراء کا اصل کردار کیا ہونا چاہیے — اور آیا سیاسی جماعتیں اندرونی اختلافات کو دبانے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں