سیلاب زدگان کو راشن کی فراہمی پر سیاست؟ — مونس الٰہی کا الزام: ’’ڈی سی گجرات نے غیر سرکاری راشن کی تقسیم روک دی‘‘
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں سیلاب متاثرین کو راشن اور کھانے کی فراہمی ایک متنازع مسئلہ بن گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الٰہی نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے مقامی افراد اور فلاحی تنظیموں کو سیلاب زدگان میں راشن تقسیم کرنے سے روک دیا ہے۔
راشن صرف “مریم نواز کی تصویر” کے ساتھ؟
مونس الٰہی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ صرف وہی راشن تقسیم کیا جائے گا جس پر مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور چیف منسٹر پنجاب مریم نواز کی تصویر لگی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح کو سیاسی تشہیر کا ذریعہ بنانا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
مقامی رضاکاروں کی مایوسی
گجرات میں کئی سماجی تنظیمیں اور مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب زدگان میں راشن، کھانا اور بنیادی اشیاء تقسیم کر رہے تھے۔ تاہم، مونس الٰہی کے مطابق، ضلعی حکومت کی جانب سے انہیں کام کرنے سے روک دیا گیا، جس کے باعث متاثرین کو فوری امداد پہنچانا ممکن نہ رہا۔
ایک مقامی رضاکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا:
“ہم نے خود پیسے جمع کیے، راشن خریدا، پیکنگ کی، اور سب کچھ تیار تھا، مگر ہمیں کہا گیا کہ سرکاری اجازت کے بغیر کچھ نہیں بانٹ سکتے — اور اجازت تب ہی ملے گی جب مخصوص راشن پیکٹ استعمال کریں گے۔”
سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا عوامی فلاح؟
اس واقعے نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا آفات کے دوران بھی سیاسی وابستگی اور تشہیر کو انسانی جانوں پر ترجیح دی جا سکتی ہے؟
مونس الٰہی نے الزام لگایا کہ:
“یہ وقت سیاست کا نہیں، خدمت کا ہے، مگر موجودہ حکومت عوامی خدمت کو بھی اپنی تصویروں سے مشروط کر رہی ہے۔”
انتظامیہ کی جانب سے مؤقف کا انتظار
تاحال ڈی سی گجرات یا پنجاب حکومت کی جانب سے اس الزام پر باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اگر یہ الزامات درست ہیں، تو یہ نہ صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال ہیں بلکہ آئینی و اخلاقی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی بھی۔
عوامی ردِعمل اور مطالبات
سوشل میڈیا پر عوام کی بڑی تعداد نے اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ:
-
اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں
-
سیلاب متاثرین کو بغیر کسی سیاسی مداخلت کے امداد فراہم کی جائے
-
انتظامیہ کو غیر جانب دار کردار ادا کرنے کا پابند بنایا جائے
نتیجہ: سیاست سے بالاتر ہو کر خدمت کا وقت ہے
پاکستان میں ہر سال قدرتی آفات عوام کو شدید متاثر کرتی ہیں۔ ایسے وقت میں سیاست، پروٹوکول یا تشہیر نہیں، بلکہ خالص انسانی ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر واقعی کسی بھی سطح پر امداد کو “چہرے” یا “بینر” سے مشروط کیا جا رہا ہے، تو یہ ایک قومی سانحہ ہے — اور ہمیں بطور قوم اس رویے کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی۔




