ایلون مسک کے تازہ الزامات پر صدر ٹرمپ بول اٹھے اور کہا کہ مسک “ٹرمپ دِرینجمنٹ سنڈروم” کا شکار ہے۔

ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے حالیہ دنوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بڑے ٹیکس و بجٹ بل کی کھل کر مخالفت کی اور الزام لگایا کہ ٹرمپ نے ماضی میں ان کا ساتھ دیا لیکن اب “احسان فراموشی” کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مزید براں، مسک نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے (امپِیچمنٹ) کی وکالت کی اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کا نام “ایپ اسٹائن فائلز” میں درج ہے، اور یہی وہ وجہ ہے کہ وہ عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔

### 🗣️ ایلون مسک کی الزامات کی تفصیل

1. **“Big, Beautiful Bill” کی مخالفت:**

* مسک کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کا یہ بل امریکہ کے قومی قرضوں میں بے تحاشہ اضافہ کرے گا اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچائے گا۔
* انہوں نے اس بل کو انتہائی “وحشتناک اور قابلِ مذمت” قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ اپنے سینیٹرز اور کانگریس اراکین سے رابطہ کریں اور بل کو ختم کروائیں۔

2. **مواخذے (Impeachment) کی وکالت:**

* تنازع مزید بڑھتے ہوئے، مسک نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹوانا چاہیے اور نائب صدر جے ڈی وینس کو ان کی جگہ لایا جائے۔
* انہوں نے الزام لگایا کہ اگر ٹرمپ کو صدر بننے میں مسک کی مدد نہ ہوتی تو ٹرمپ جیت بھی نہ پاتے۔

3. **“ایپ اسٹائن فائلز” میں ٹرمپ کا نام:**

* مسک کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا نام جفری ایپ اسٹائن کے خلاف خفیہ فائلز میں درج ہے، اور اسی لیے یہ مواد ابھی تک پبلک نہیں کیا گیا۔
* ان کے مطابق یہ راز چھوڑ کر ٹرمپ اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

### 🛡️ صدر ٹرمپ کا ردِعمل

1. **“Trump Derangement Syndrome” کا الزام:**

* ٹرمپ نے بطور صدر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ “ایلون مسک بدقسمتی سے ٹرمپ ڈیریجمنٹ سنڈروم کا شکار ہو گیا ہے۔ وہ ذہنی توازن کھوچکا ہے۔”
* انہوں نے مزید کہا کہ مسک کی مخالفت کا انہیں توقع نہیں تھی کیونکہ ماضی میں انہوں نے مسک کو کئ مواقع فراہم کیے۔

2. **“احسان فراموشی” پر تنقید:**

* ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مسک نے ماضی میں ان کی انتخابی مہم میں بڑا حصہ ڈالا اور انہیں ٹیکس میں رعایتیں دی گئیں، لہٰذا اب الزامات لگانا غیرمنصفانہ ہے۔
* ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہمیشہ مسک کی مدد کرتے رہے—الیکٹرک کارز کو سبسڈیز دیں، سٹار لنک کو سہولیات فراہم کیں—لیکن اب مسک انہیں “بدکردار” کہہ رہے ہیں۔

3. **حکومتی ٹھیکوں اور سبسڈیز کی منسوخی کی دھمکی:**

* ٹرمپ نے خبردار کیا کہ وہ مسک کی کمپنیوں، خصوصاً ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے تمام سرکاری ٹھیکے اور سبسڈیز ختم کر سکتے ہیں۔
* ان کے اس بیان کے نتیجے میں فوراً ٹیسلا کے شیئرز میں بھاری کمی آئی اور ایک دن میں ہی تقریباً 14 فیصد کی قدر کھو دی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

1. **مالیاتی اثرات:**

* مسک اور ٹرمپ کے درمیان جاری لفظی جنگ نے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پیدا کیا کہ اگر ٹرمپ ٹھیکے ختم کر دیں تو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نتیجتاً ٹیسلا کے حصص کی قدر بے قابو نیچے گری اور کمپنی کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

2. **سیاسی تاثر:**

* اس تنازع نے واضح کیا کہ کبھی گہرے اتحادی سیاسی اختلافات کی صورت میں جلد از جلد مخالفین میں بدل سکتے ہیں۔
* ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات کھل کر سامنے آئے، جہاں کچھ افراد ٹرمپ کی پالیسیاں پسند کرتے ہیں اور دیگر مسک کے “ماحولیاتی انقلابی” موقف کے حامی ہیں۔

* امریکہ میں بہت سے لوگ ٹرمپ کے اقدام کی حمایت کر رہے ہیں اور مسک کو “بڑائی کرنے والا” قرار دے رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف نوجوان سوشل میڈیا صارفین مسک کو “سچ بولنے والا” تسلیم کرتے ہیں۔
* اس تنازع نے الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی کے شعبے میں درکار تبدیلیوں کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنایا ہے، کیونکہ ٹرمپ نے اپنے بل میں الیکٹرک گاڑیوں کو دی جانے والی سبسڈیز کو بڑی حد تک ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایلون مسک کی جانب سے لگائے گئے “ایپ اسٹائن فائلز” اور “امپِیچمنٹ” کے الزامات پر صدر ٹرمپ نے مسک کو “ٹرمپ ڈیریجمنٹ سنڈروم” کا مریض قرار دیا اور خبردار کیا کہ وہ سرکاری ٹھیکے اور سبسڈیز ختم کر دیں گے۔ اس لفظی تصادم کا فوری نتیجہ ٹیسلا کے شیئرز میں بھاری کمی کی صورت میں نکلا، اور امریکی سیاسی منظرنامے میں بھی اختلافات بڑھ گئے۔ مسک کے ماحول دوست اقدامات اور ٹرمپ کی روایتی مالیاتی و حکومتی حکمتِ عملی کے مابین تضاد نے اس تنازع کو نہ صرف کاروباری دنیا بلکہ عالمی سیاست میں بھی اہم موضوع بنا دیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں