پی ٹی آئی قیادت احتجاجی سیاست سے تھک چکی، مفاہمت کی تلاش—but بانی چیئرمین رکاوٹ؟
پی ٹی آئی قیادت مفاہمت کی خواہاں، مگر عمران خان اصولوں پر قائم — اصل رکاوٹ یا واحد نظریاتی ستون؟
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال میں جہاں بیشتر جماعتیں مفاہمت، سمجھوتے اور وقتی سیاسی فائدے کی سیاست پر چل رہی ہیں، وہیں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں جو اپنے مؤقف اور اصولوں پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ حالیہ سیاسی تجزیوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت احتجاجی سیاست سے ’تھک‘ چکی ہے اور اسٹیبلشمنٹ یا حکومت سے مصالحت کا راستہ چاہتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اس مفاہمتی سوچ کی راہ میں نہیں، بلکہ ایک مضبوط نظریاتی بنیاد کی حیثیت سے سامنے آ رہے ہیں۔
عمران خان کا مؤقف واضح اور غیر مبہم ہے: پاکستان میں قانون کی بالادستی، شفاف انتخابات، اداروں کی غیر جانبداری اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے۔ وہ کسی وقتی سیاسی ریلیف یا شخصی فائدے کے لیے ان اصولوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ “کسی سے این آر او نہیں مانگیں گے” اور “عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے”۔
بعض حلقے عمران خان کو پارٹی کے اندرونی مفاہمتی کوششوں میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ واحد شخصیت ہیں جو پارٹی کے بیانیے کو عوامی سطح پر مؤثر طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔ عوام میں اُن کی مقبولیت اب بھی قائم ہے، اور یہ مقبولیت کسی روایتی سیاسی چالاکی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان کی جدوجہد، قربانیوں اور اصولی مؤقف کی دین ہے۔
پی ٹی آئی کے اندر کچھ رہنما وقتی دباؤ یا ذاتی سیاسی مستقبل کے پیش نظر راستہ بدلنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، لیکن عمران خان اب بھی ان لاکھوں پاکستانیوں کی آواز ہیں جو تبدیلی، انصاف، اور حقیقی جمہوریت کے خواہاں ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کا بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

لہٰذا، سوال یہ نہیں کہ عمران خان مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ ہیں — اصل سوال یہ ہے کہ کیا اصولوں پر ڈٹے رہنا آج کی سیاست میں جرم بن چکا ہے؟ اور اگر ہاں، تو پھر ملک میں نظریاتی سیاست کا انجام کیا ہوگا؟



