پنجاب حکومت کا بڑا قدم: ’’دھی رانی پروگرام‘‘ کا دائرہ کار قیدیوں کی بیٹیوں تک بڑھا دیا گیا

پنجاب حکومت نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم اور قابلِ تحسین اقدام اٹھاتے ہوئے “دھی رانی پروگرام” کو اب جیلوں میں قید افراد کی بیٹیوں تک توسیع دے دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ان بچیوں کو معاشرے میں باعزت مقام دلانا ہے جو والدین کی غیرموجودگی یا معاشی کمزوری کی وجہ سے تعلیمی، نفسیاتی یا معاشرتی مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس توسیع شدہ پروگرام کے تحت قیدیوں کی بچیوں کو تعلیم، صحت، وظیفہ، قانونی معاونت، اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ وہ زندگی کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔

دھی رانی پروگرام — پس منظر:

“دھی رانی پروگرام” کا آغاز پنجاب حکومت نے اُن مستحق، یتیم یا بے سہارا بچیوں کی کفالت اور تربیت کے لیے کیا تھا جنہیں ریاستی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہزاروں بچیوں کو نہ صرف مالی امداد دی گئی بلکہ انہیں تعلیم، ہنر اور خوداعتمادی کے قابل بھی بنایا گیا۔

قیدیوں کی بیٹیوں کو خصوصی سہولیات:

پروگرام کی توسیع کے بعد جیلوں میں سزا کاٹنے والے والدین کی زیر کفالت بچیاں اب حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گی۔ ان بچیوں کو:

ماہانہ وظیفہ

سکول اور کالج میں داخلے میں ترجیح

نفسیاتی مشاورت

ہنر مند تربیت (اسکل ڈویلپمنٹ)

صحت کی سہولیات

جیسے اقدامات سے فائدہ پہنچے گا۔

سماجی انصاف کی طرف ایک قدم:

ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سماجی تفریق اور محرومی کا شکار طبقے کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش ہے۔ قیدیوں کے بچوں پر معاشرے میں اکثر غلط نظریہ قائم کیا جاتا ہے، جس کے باعث وہ احساسِ محرومی اور تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس فیصلے سے ان کے مستقبل کو سنوارنے کا ایک مثبت موقع ملے گا۔

ردِ عمل اور توقعات:

سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تعلیمی ماہرین نے حکومت پنجاب کے اس فیصلے کو حوصلہ افزا اور عملی قدم قرار دیا ہے، اور امید ظاہر کی ہے کہ دیگر صوبے بھی اس ماڈل کو اپنائیں گے تاکہ پورے ملک میں بے سہارا بچیوں کی کفالت ممکن ہو سکے۔
’’دھی رانی پروگرام‘‘ کا دائرہ کار قیدیوں کی بیٹیوں تک بڑھانا پنجاب حکومت کی اس سوچ کا عکاس ہے کہ ریاست ہر بچی کی ماں ہے، اور اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہر شہری، خاص طور پر کمزور طبقے کے بچوں کو تحفظ، تعلیم اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرے۔

یہ اقدام نہ صرف اصلاحی ہے بلکہ ایک انسان دوست ریاست کی پہچان بھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں