ایران سے تجارت میں انقلاب، پاکستان سیکریٹری تجارت کا بارٹر سسٹم پر مبنی نیا حکومتی فارمولہ

پاکستان کے سیکریٹری تجارت نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو روایتی مالی طریقوں سے ہٹا کر بارٹر سسٹم یعنی اشیاء کے تبادلے کی بنیاد پر چلایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں نے ایس آر او (سیکرٹریل ریگولیٹری آرڈر) تیار کر لیا ہے جو اس نئے تجارتی نظام کے نفاذ کے لیے ضروری قواعد و ضوابط کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

بارٹر سسٹم کی بنیاد پر تجارت کا مقصد یہ ہے کہ دونوں ممالک کی درآمدات اور برآمدات میں مالی رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور اس طرح تجارت کو آسان اور تیز تر بنایا جائے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان ادائیگیوں کے پیچیدہ مسائل اور بینکنگ پابندیوں کی وجہ سے روایتی مالی لین دین میں دشواریاں پیش آ رہی تھیں، جنہیں حل کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

نئے نظام کے تحت پاکستان اور ایران اپنی ضروریات کے مطابق اشیاء کا تبادلہ کریں گے، مثلاً ایران تیل یا دیگر قدرتی وسائل فراہم کرے گا جبکہ پاکستان زرعی مصنوعات، صنعتی سامان یا دیگر اشیاء کا تبادلہ کرے گا۔ اس سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ باہمی تعلقات کو بھی مضبوطی ملے گی۔

یہ حکومتی اقدام تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی مالیاتی پابندیوں اور بین الاقوامی تجارتی رکاوٹوں نے متعدد ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ بارٹر سسٹم سے نہ صرف نقدی کے بحران میں کمی آئے گی بلکہ تجارتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

اس اقدام پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بارٹر سسٹم طویل مدتی حل نہیں ہو سکتا، مگر موجودہ حالات میں یہ پاکستان اور ایران کے تجارتی تعلقات کو بحال رکھنے اور فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نظام کو شفاف اور مؤثر طریقے سے نافذ کرے تاکہ دونوں ممالک کے تاجروں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں