“تحریک عدم اعتماد کے راز: نواز شریف اور فوج کے درمیان کمپرومائز کی کہانی”
محمد زبیر نے ایک انٹرویو یا بیان میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سب سے پہلے نواز شریف نے انہیں لندن میں اس کا ذکر کیا تھا۔ جب محمد زبیر نے نواز شریف سے اس بارے میں سوال کیا کہ وہ پہلے تو کہتے تھے کہ تحریک عدم اعتماد کا عمل فوج کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتا، تو نواز شریف نے اعتراف کیا کہ اب حالات کے مطابق انہیں کچھ حد تک کمپرومائز کرنا پڑے گا۔
یہ کمپرومائز درحقیقت اس بات کا اعتراف تھا کہ پاکستان کی سیاست میں فوج کا اثرورسوخ اتنا زیادہ ہے کہ سیاسی فیصلے اکثر فوج کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ تاہم، محمد زبیر نے اس کمپرومائز کی تعریف کے حوالے سے نکتہ اٹھایا کہ کمپرومائز کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سیاسی قائدین اپنی مرضی سے فیصلے کریں، بلکہ جب کمپرومائز کرنا پڑتا ہے تو اکثر فیصلہ سازی فوج یا دیگر طاقتور اداروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے، جس سے جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے اور سیاست دان اپنی خودمختاری کھو دیتے ہیں۔
محمد زبیر کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد جیسی سیاسی حکمت عملی میں بھی فوج کا کردار کلیدی ہے، اور سیاسی فیصلے کبھی کبھار عوامی نمائندگی کے بجائے طاقت کے توازن کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں نواز شریف کی یہ گفتگو ایک حقیقت پسندی کی مثال ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاست میں ہمیشہ اپنے اصولوں پر پورا اترنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات حالات کے مطابق سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ کمپرومائز جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بیان پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فوج اور سول حکومت کے تعلقات کی پیچیدگیوں اور جمہوری نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں فوج اکثر بطور اثر انداز قوت کام کرتی ہے اور سول قیادت کو محدود کر دیتی ہے۔
🧠 اہم نکات:
-
نواز شریف کی سیاست میں فوج کی حمایت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
-
کمپرومائز کا مطلب صرف سمجھوتہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو ماننا ہے۔
-
جمہوری عمل پر فوج کے اثرات پاکستان کی سیاست میں بار بار دہرائے جانے والے موضوعات ہیں۔
-
سیاسی قیادت کی خودمختاری فوجی اثرورسوخ کے باعث محدود ہو جاتی ہے۔



