“شٹ اپ ہو جاؤ؟ خواجہ آصف کی زبانی وفاداری یا سیاسی مجبوری؟”

شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں جب خواجہ آصف سے سوال ہوا کہ “حنیف عباسی کہتے ہیں کہ آپ وزیراعظم کو ڈس کریڈٹ کر رہے ہیں، کیا شہباز شریف نے آپ سے ناراضی کا اظہار نہیں کیا؟” تو خواجہ صاحب نے فوری فرمایا:
“شہباز شریف مجھے کہتا کہ شٹ اپ ہو جاؤ تو میں اسی وقت شٹ اپ ہو جاتا!”

اب بندہ پوچھے، یہ سیاست ہو رہی ہے یا کسی اسکول کی اسمبلی؟ اگر وزیراعظم “شٹ اپ” کہے تو خواجہ صاحب بغیر دلیل، بغیر وضاحت، فوراً خاموش ہو جائیں گے؟ یہ جمہوریت ہے یا بادشاہت جس میں بادشاہ کا حکم حرفِ آخر ہوتا ہے؟

ن لیگ کے بڑوں کی یہ “وفاداری” دراصل ایک نیا نظریۂ سیاست ہے، جس میں اصول، موقف اور بیانیہ سب کچھ پارٹی قیادت کی مرضی سے بدلتا ہے۔ اگر قائد کہے کہ دن کو رات مانو، تو خواجہ صاحب شائد سورج کو بھی کہہ دیں “شٹ اپ”!

اسی جملے سے واضح ہو گیا کہ ن لیگ میں صرف ایک چیز کی اجازت ہے:
سوچنے کی آزادی؟ نہیں! بولنے کی آزادی؟ بلکل نہیں!
صرف ایک آزادی ہے: قائد کو خوش رکھنے کی آزادی۔

نہ کسی پالیسی پر سوال، نہ کسی فیصلے پر اعتراض۔ اگر لیڈر ناراض ہو جائے، تو پوری پارٹی کی زبان بند۔ اور اگر لیڈر کچھ نہ کہے، تو جو چاہو کہو، کیونکہ اصل میں دم قائد کی نظرِ کرم سے بندھا ہوا ہے۔

تو جناب، خواجہ آصف کی اس “شٹ اپ پالیسی” نے ن لیگ کا اصل چہرہ خوب بےنقاب کر دیا ہے — نہ جمہوریت، نہ اختلاف، صرف “آرڈر! سر جی!” والا ماحول۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں