سکھر-روہڑی ٹریفک جام کا حل؟ “جمالو ایکسپریس” لوکل ٹرین متعارف کروانے کی حکمتِ عملی تیار!
سکھر:
سکھر اور روہڑی کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے ٹریفک جام اور شہریوں کی بڑھتی شکایات کے پیش نظر ریلوے حکام نے ایک نئی لوکل ٹرین “جمالو ایکسپریس” چلانے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
🚦 مسئلہ کیا ہے؟
سکھر اور روہڑی کے درمیان پل، مرکزی سڑکیں اور چوراہے روزانہ سینکڑوں گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
دفتر، اسکول، اسپتال اور کاروباری مراکز جانے والے افراد کو گھنٹوں جام میں پھنسے رہنا پڑتا ہے۔
🚆 “جمالو ایکسپریس” کا حل کیسے؟
ریلوے ذرائع کے مطابق، اس نئی لوکل ٹرین کا مقصد دو شہروں کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے افراد کے لیے محفوظ، سستا اور وقت بچانے والا متبادل فراہم کرنا ہے۔
📌 ابتدائی تفصیلات:
روٹ: سکھر اسٹیشن سے روہڑی اسٹیشن (اور ممکنہ طور پر بیچ میں ایک دو چھوٹے اسٹاپس)
دورانیہ: صرف 10-12 منٹ کا مختصر سفر
فریکوئنسی: دن میں متعدد چکر — خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں
کرایہ: عام شہری کی دسترس میں رکھنے کے لیے انتہائی کم رکھا جائے گا
متوقع آغاز: منصوبے کو حتمی منظوری کے بعد چند ہفتوں میں فعال کیا جا سکتا ہے
🗣️ عوامی رائے:
شہری حلقوں نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں چلایا جائے تو نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ وقت اور پیسے کی بھی بچت ہوگی۔
“جمالو ایکسپریس” جیسی لوکل ٹرینیں دنیا بھر کے شہروں میں شہری دباؤ کم کرنے کا مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
اگر پاکستان ریلوے اس منصوبے کو سنجیدگی اور مسلسل نگرانی کے ساتھ آگے بڑھائے تو یہ سکھر اور روہڑی کے شہریوں کے لیے ایک نئی سفری زندگی کی شروعات ہو سکتی ہے۔




