“کروڑوں کے گھر کی باتیں، مگر حقیقت نکلی صرف ویلاگ کی شو بازی — ‘سسٹرالوجی’ بہنیں فیک کانٹینٹ کے الزام میں تنقید کی زد میں!”

پاکستانی یوٹیوب پر تیزی سے شہرت حاصل کرنے والی مشہور “سسٹرالوجی” بہنیں — اقرا کنول، رابعہ فیصل، فاطمہ فیصل، حرا فیصل، اور زینب فیصل — اب صرف فیشن، فیملی ویلاگز یا شادی کی تقریبات کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک بڑے تنازعے کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔

حالیہ دنوں ان بہنوں نے ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک کروڑوں روپے مالیت کا عالیشان گھر خریدنے جا رہی ہیں۔ ویڈیو میں گھر کا مکمل ٹور، تفصیلات، خوشی کے جذبات اور مستقبل کے خواب دکھائے گئے — جس نے یوٹیوب پر لاکھوں ویوز حاصل کیے۔

لیکن پھر حقیقت نے کروٹ بدلی۔

ایم ایس جے رئیل اسٹیٹ کے ایک ایجنٹ نے ویڈیو جاری کر کے معاملے کی قلعی کھول دی۔ ان کا کہنا ہے:

“یہ فیملی ہمارے آفس آئی، گھر دیکھا، سب کچھ سمجھایا، انہیں پسند بھی آیا، لیکن پھر بہانہ بنایا گیا کہ والد صاحب کو کسی جنازے پر جانا ہے۔ ہم سمجھے شاید بعد میں رابطہ کریں گے، لیکن چند دن بعد دیکھا کہ وہی گھر پورے ویلاگ کے ساتھ یوٹیوب پر ڈال دیا گیا۔”

ایجنٹ کے مطابق نہ کوئی معاہدہ ہوا، نہ ادائیگی، نہ ہی گھر خریدا گیا — بلکہ صرف “فیک کانٹینٹ” بنا کر یوٹیوب پر اپلوڈ کیا گیا تاکہ ناظرین کو متاثر کیا جا سکے اور ویوز حاصل ہوں۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل:

کچھ صارفین نے اس حرکت کو “فراڈنٹ کانٹینٹ” قرار دیا

کئی مداح مایوس نظر آئے اور بہنوں سے وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں

کچھ افراد نے کہا کہ “مشہور ہونے کی دوڑ میں اخلاقی حدیں پار کی جا رہی ہیں”

یہ پہلی بار نہیں:

ڈکی بھائی، رجب بٹ اور دیگر یوٹیوبرز کے بعد، اب سسٹرالوجی بہنیں بھی “متنازعہ یوٹیوبرز” کی فہرست میں شامل ہوتی جا رہی ہیں — جہاں شہرت، سچائی اور سنسنی خیزی کے درمیان فرق دھندلا پڑتا جا رہا ہے۔
یوٹیوب کی دنیا میں شہرت کی دوڑ تیز ہے، مگر اگر بنیاد جھوٹ پر ہو تو اعتماد کا گرنا طے ہوتا ہے۔ سسٹرالوجی بہنوں کو اس تنازعے کے بعد نہ صرف اپنی شفافیت ثابت کرنی ہوگی، بلکہ یہ بھی دکھانا ہوگا کہ وہ صرف ویوز کے لیے نہیں، ناظرین کے اعتماد کے لیے بھی ویڈیوز بناتی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں