“عدلیہ کی آزادی پر حملہ ناقابلِ قبول ہے، وکلاء اب خاموش نہیں بیٹھیں گے!” – لطیف کھوسہ
27 مئی 2025 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ایک غیرمعمولی منظر دیکھنے کو ملا، جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ وکلاء اور پارٹی رہنماؤں نے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر اور مبینہ جانبداری کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ اس احتجاج کا مرکزی نکتہ سابق گورنر پنجاب اور سینئر وکیل لطیف کھوسہ کی جذباتی اور تہلکہ خیز تقریر بنی، جس نے سیاسی و قانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔
لطیف کھوسہ نے اپنی تقریر میں عدلیہ کی مبینہ غیرجانبداری پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا:
“ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں، وکلا تحریک چلائی، جیلیں بھریں – کیا وہ سب بیکار گیا؟ ہم پھر تیار ہیں، عدلیہ کو آزاد کروائیں گے!”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے کیسز میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے، جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کھوسہ نے عدالتی اداروں پر زور دیا کہ وہ بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کریں، تاکہ عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد بحال ہو۔
اس موقع پر خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“اگر ہمارے خلاف گولیاں چلائی گئیں تو ہم بھی تیار ہیں، ہم اسلحہ بھی لائیں گے۔ عمران خان انصاف کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور ہم اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔”
احتجاج کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف:
پارٹی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ عدلیہ کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کیا جائے اور عمران خان کے کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔ پارٹی نے عدلیہ کو یاد دلایا کہ “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے”۔



