رات گئے اڈیالہ جیل کی روشن بتیاں اور ایک سینئر جنرل کی “خاموش” آمد—سوالات تو اٹھیں گے!
اڈیالہ جیل کی “غیرمعمولی روشنی”
اسلام آباد اور راولپنڈی کی فضا اس وقت مزید سنجیدہ ہو گئی جب اڈیالہ جیل میں رات گئے اچانک تمام بتیاں روشن کر دی گئیں۔ مقامی ذرائع اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اس غیر معمولی سرگرمی کو نوٹ کیا، جس کے بعد چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ رات کے اس پہر جیل کی پوری بیرونی اور اندرونی روشنی کا کھل جانا معمول کا حصہ نہیں ہوتا، خاص طور پر جب جیل میں پہلے ہی کئی اہم سیاسی اور ریاستی قیدی موجود ہوں۔
👤 سینئر جنرل کی مبینہ ملاقات — حقیقت یا قیاس؟
ذرائع کے مطابق، رات گئے ایک ریٹائرڈ یا حاضر سروس سینئر جنرل نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔ ملاقات کن سے ہوئی، یہ فی الحال واضح نہیں، لیکن قیاس یہی ہے کہ یہ کوئی عام ملاقات نہ تھی۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایک اہم سیاسی قیدی سے ہوئی، جس کی حیثیت حالیہ ملکی سیاسی منظرنامے میں بہت اہم ہے۔
❓ سوالات جو جنم لے رہے ہیں:
-
یہ ملاقات کیوں ہوئی؟
-
کیا یہ آئینی دائرے میں تھی یا غیر رسمی؟
-
کیا کسی سمجھوتے، دباؤ یا مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے؟
-
اور سب سے بڑھ کر — رات کی تاریکی میں یہ “روشنی” کس کا پیغام ہے؟
🧩 سیاق و سباق: اہم سیاسی گرفتاریاں اور پسِ پردہ چالیں
اڈیالہ جیل میں اس وقت کئی ایسے افراد قید ہیں جن کا براہ راست تعلق ملکی سیاست، تحریکوں یا ریاستی اداروں سے اختلافات سے ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں عدالتی عمل، گرفتاریوں اور رہائیوں کے پیچھے مبینہ طور پر “پسِ پردہ قوتوں” کے کردار پر سوال اٹھے۔
ایسے میں ایک سینئر جنرل کی ممکنہ ملاقات نے قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دے دی ہے کہ شاید کسی “ڈیل” یا “سمجھوتے” کا ماحول بن رہا ہے۔
🤐 باضابطہ خاموشی — غیر رسمی تاثر
نہ تو حکومت کی طرف سے اور نہ ہی فوجی ذرائع سے اس ملاقات کی تصدیق یا تردید کی گئی ہے، جو کہ خود ایک خاموش تاثر دے رہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ کچھ باتیں ان دفتری فائلوں میں نہیں ہوتیں — بلکہ جیل کی دیواروں کے بیچ رات کے سناٹوں میں طے پاتی ہیں۔
🔍 عوامی اور سیاسی ردِعمل
سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا:
-
کچھ لوگ اسے ایک “پرامن حل کی طرف قدم” سمجھ رہے ہیں
-
کچھ حلقے اسے غیرآئینی مداخلت قرار دے رہے ہیں
-
سیاسی کارکنان اور صحافیوں کا مطالبہ ہے کہ اس ملاقات کی نوعیت کو عوام کے سامنے لایا جائے
📌 سچ تو شاید کبھی نہ سامنے آئے، مگر سوال زندہ رہیں گے
اڈیالہ جیل کی روشن بتیاں اور خاموش در و دیوار شاید کبھی کچھ نہ بولیں،
مگر یہ “رات کی ملاقات” آنے والے دنوں کی سیاست کا رُخ ضرور متعین کر سکتی ہے۔



