“گریٹر اسرائیل کا تصور صرف ایک سیاسی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک بدمعاشانہ سوچ کی نمائندگی کرتا ہے” — او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا دو ٹوک پیغام!

او آئی سی اجلاس یا رسمی تماشہ؟ — غزہ جل رہا ہے، مسلم قیادت صرف بیانات دے رہی ہے
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر ایک نہایت جرات مندانہ اور واضح موقف اپناتے ہوئے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستانی وفد نے اسرائیل کے “گریٹر اسرائیل” کے تصور کو ایک “بدمعاشانہ سوچ” قرار دیتے ہوئے نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی، بلکہ اس ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے سات ٹھوس اقدامات کا مطالبہ بھی پیش کیا۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب غزہ پر اسرائیلی حملے شدید ہو چکے ہیں، ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، اور عالمی برادری کی خاموشی سے مسلم دنیا میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان کے مطالبات — سات نکاتی عملی لائحہ عمل:

فوری جنگ بندی:
پاکستان نے زور دیا کہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ انسانی جانوں کا مزید نقصان روکا جا سکے۔

فلسطینیوں کو انسانی امداد کی فراہمی:
اسرائیلی ناکہ بندی اور بمباری کے باعث غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر تنظیمیں فوری امدادی راہداریاں کھولیں۔

اسرائیلی جنگی جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات:
پاکستان نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے اقدامات کو جنگی جرائم کے زمرے میں لاتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جائیں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر دباؤ:
پاکستان کا مؤقف تھا کہ او آئی سی ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر اجتماعی دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی روکے۔

فلسطین کو مکمل ریاست کا درجہ دلوانے کی مہم:
پاکستان نے تجویز دی کہ مسلم ممالک عالمی سطح پر سفارتی مہم چلائیں تاکہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دلائی جائے۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی:
او آئی سی کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی، تجارتی اور عسکری تعلقات پر نظرثانی کریں، خاص طور پر ان ممالک نے جنہوں نے حالیہ برسوں میں تعلقات بحال کیے ہیں۔

اسلامی دنیا کا متحد لائحہ عمل:
پاکستان نے پرزور اپیل کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا محض بیانات سے آگے بڑھ کر ایک مشترکہ، ٹھوس اور دیرپا حکمت عملی تیار کرے، تاکہ فلسطینی عوام کو انصاف دلایا جا سکے اور اسرائیل کو اس کے مظالم کا جواب دیا جا سکے۔

پاکستان کا مؤقف — ایک اخلاقی اور اصولی جنگ:

پاکستان نے یہ واضح کیا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ یہ مظلوموں کے ساتھ انصاف، انسانی حقوق کے تحفظ، اور عالمی قانون کی حکمرانی کا مسئلہ ہے۔ اسرائیل کا “گریٹر اسرائیل” کا خواب نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ اس سوچ کو صرف فلسطینی نہیں، بلکہ پوری مسلم دنیا اور انسانیت کی بقاء کے لیے چیلنج کرنا ہوگا۔

پاکستانی قیادت نے اس موقع پر ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطین کی آزادی تک اس کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز پر پاکستان کی فعال سفارتکاری نہ صرف مسلم امہ کی آواز بن رہی ہے بلکہ یہ ایک ایسی امید ہے جو عالمی سطح پر فلسطینی کاز کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اگر او آئی سی پاکستان کی ان سفارشات کو عملی شکل دیتی ہے تو یہ یقیناً ایک تاریخی قدم ہوگا جو فلسطین میں انصاف، امن اور آزادی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں