سابق سینیٹر عباس آفریدی کی نمازِ جنازہ آج شام 5 بجے ان کے آبائی محلے میں ادا کی جائے گی۔

سابق سینیٹر عباس آفریدی کے انتقال کی خبر سے سیاسی حلقوں اور عوام میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مرحوم عباس آفریدی طویل عرصے تک قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خدمات انجام دیتے رہے اور اپنے دور میں انصاف، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کے لیے سرگرم رہے۔

انتقال اور سوگوار خاندان
عباس آفریدی کل اچھی صحت میں اچانک طبیعت ناساز ہونے کے بعد میڈیکل کمپلیکس میں زیرِ علاج تھے، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور سہ پہر کے وقت انتقال کر گئے۔

مرحوم کے ساتھ ان کے بیٹے، بیٹی اور اہلیہ موجود تھیں۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی اہلِ خانہ، دوستوں اور سیاسی قائدین نے گہرے اندوہ کا اظہار کیا۔

سیاسی اور سماجی خدمات
عباس آفریدی نے 2008 سے 2018 تک دو مرتبہ سینیٹر کا عہدہ سنبھالا۔ وہ ایک قومی پارٹی سے وابستہ تھے اور اُنہوں نے پارلیمنٹ میں تقریباً ہر بڑا قرارداد پیش کیا۔

انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے متعدد پراجیکٹس کا آغاز کیا، خاص طور پر دیہی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی بحالی اور نئے کورسز کے قیام میں ان کا کردار نمایاں رہا۔

صحت کے شعبے میں بھی وہ سرگرم رہے اور ضلع بھر کے صحت کے مراکز کی اپ گریڈیشن کے لیے سرکاری فنڈز کا حصول ان کے ذریعے ممکن ہوا۔

ان کی سماجی خدمات کے دوران غربت زدہ خاندانوں کی سرپرستی اور یتیم بچوں کے لیے اسکالرشپ اسکیمیں متعارف کروانے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔

نمازِ جنازہ اور تدفین
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج شام 5 بجے ان کے آبائی محلے نواب آفریدی کالونی میں مسجدِ الہدیٰ کے صحن میں ادا کی جائے گی۔

نمازِ جنازہ کے بعد ان کی تدفین اسی مقام کے قریب واقع گاؤں کا مرکزی قبرستان میں کی جائے گی۔

نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے سیاسی قائدین، سابق سینیٹرز، جماعت کے بانی اراکین اور علاقائی کارکنان کے علاوہ عوام کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

مقام نمازِ جنازہ کے قریب پہنچنے کے لیے علاقائی انتظامیہ نے چند پارکنگ زونز متعین کیے ہیں اور ٹریفک کی روانی کے لیے رکاوٹیں بھی نصب کی گئی ہیں۔

سیاسی و سماجی ردِ عمل
سابق مشیرِ اعلیٰ اور موجودہ رکنِ پارلیمنٹ سجاد خان نے ایک بیان میں کہا:

“عباس آفریدی نے ہمیشہ عوام کے مفاد کو مقدم رکھا۔ ان کے جانے سے نہ صرف پارٹی بلکہ پورا حلقہ سوگوار ہے۔ ان کی کمی کو پر کرنا آسان نہیں ہوگا۔”

صوبائی وزیرِ تعلیم نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ عباس آفریدی کی کاوشوں سے استفادہ کرنے والے طلبا ہمیشہ ان کے احسان مند رہیں گے۔

سماجی کارکن نازیہ بلوچ نے کہا کہ مرحوم نے غربت کے خلاف جنگ میں بے پناہ کردار ادا کیا، اور ان کی یاد ہمیشہ عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دیتی رہے گی۔

بہت سے عام شہری بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے انتظار میں ہیں تاکہ وہ مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔

خاندان کا بیان
مرحوم کے بیٹے عرفان آفریدی نے کہا:

“ہم اپنے والد کے اچانک جانے پر صدمے میں ہیں، ان کی یاد ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہے گی۔ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے تمام عزیز و اقارب اور دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔”

بیٹی ثنا آفریدی نے بتایا کہ والدِ محترم نے زندگی بھر عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کو اپنا فرض سمجھا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہمارا عہد ہے۔

نمازِ جنازہ میں شرکت کا طریقہ
وقت و مقام:

شام 5 بجے، مسجدِ الہدیٰ، نواب آفریدی کالونی۔

پارکنگ انتظامات:

قریبی بنی گالا کالونی اور تحصیل ہیڈکوارٹر کے پارکنگ زون استعمال کیے جائیں گے۔

احتیاطی تدابیر:

نماز کے لیے آنے والے افراد سے گزارش ہے کہ مساجد کے اطراف پارکنگ ایریا کو بلاک نہ کریں اور ٹریفک پولیس کے اشاروں پر عمل کریں۔

کورونا اور حالیہ گرمی کی لہر کے پیشِ نظر ماسک پہنیں اور جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے کے لیے پانی کی بوتل ساتھ لائیں۔

خراجِ عقیدت اور خدمات کا مستقل یادگار
حزبِ اختلاف کی جانب سے حکام کو درخواست کی گئی ہے کہ مرحوم کے نام پر ایک اسکول یا ہیلتھ کیئر سینٹر قائم کیا جائے تاکہ ان کی خدمات کا تسلسل برقرار رہ سکے۔

علاقائی حکومت نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ عباس آفریدی کے نام پر یادگار چوک یا پارک بنانے کے لیے فنڈ مختص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

عہد ہے کہ ان کے توسط سے شروع کردہ عوامی فلاحی پراجیکٹس کو مزید وسعت دی جائے گی اور غریب خاندانوں کی سرپرستی جاری رکھی جائے گی۔
سابق سینیٹر عباس آفریدی کی خدماتِ عوام اور سیاسی سنجیدگی نے انہیں ایک مقبول شخصیت کا درجہ بخشا۔ ان کی نمازِ جنازہ آج شام 5 بجے نواب آفریدی کالونی کی مسجدِ الہدیٰ میں ادا کی جائے گی، جہاں سیاسی و سماجی حلقے، ان کے ساتھی اور عوام کثیر تعداد میں شرکت کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنتِ الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے—آمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں