مسواک کی اہمیت: سنت نبوی ﷺ اور آج کا درس

مسواک دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والی ایک قدرتی چیز ہے، جو کسی بھی پودے کی لکڑی کی ٹہنی سے حاصل کی جاتی ہے۔ خاص طور پر نیم، زیتون اور پیلو کے درختوں کی ٹہنیوں کو مسواک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کے بے شمار طبی اور روحانی فوائد ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے طہارت و نظافت کے سلسلے میں بہت سی چیزوں پر زور دیا اور ان کی تاکید فرمائی۔ ان میں سے ایک مسواک بھی ہے۔ مسواک کے طبی فوائد سے کوئی صاحبِ شعور انکار نہیں کر سکتا، اور دینی نقطۂ نگاہ سے اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو بہت راضی کرنے والا عمل ہے۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مسواک منہ کو بہت زیادہ پاک صاف کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ خوش کرنے والی چیز ہے۔”

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت پر بہت مشقت پڑ جائے گی تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حتمی امر کرتا۔”

حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں: ایک حیا، دوسرے خوشبو لگانا، تیسرے مسواک کرنا، اور چوتھے نکاح کرنا۔”

آج کے دور میں، بعض لوگ مسواک کے اصل روحانی اور عملی مقام کو بھول جاتے ہیں۔ جیسے کچھ افراد اسے محض کسی کھلونے یا روزمرہ کی چیز کی طرح استعمال کرتے ہیں، یا یہاں تک کہ موبائل یا دیگر اشیاء صاف کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف مسواک کی سنت کے خلاف ہے بلکہ اس کی تقدس اور روحانیت کی توہین بھی ہے۔

خدارا ہمیں چاہیے کہ ہم مسواک کی اصل اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، تاکہ نہ صرف اپنے جسمانی صحت کا خیال رکھ سکیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی راضی کر سکیں۔ دعا کیجیے کہ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور اس قسم کے اعمال سے بچائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں