“خاموش سفارتکاری کی آخری امید بھی دھندلا گئی—عمران خان سے ملاقات کی ہر کوشش ناکام!”
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں۔ پاکستان نژاد امریکی ڈاکٹرز اور تاجروں کا ایک وفد، جو کہ ایک بار پھر خصوصی مشن پر پاکستان آیا تھا، 4 دن اسلام آباد میں گزارنے کے بعد کسی بڑی ملاقات یا بریک تھرو کے بغیر لاہور روانہ ہو گیا۔
1. مقصد اور امیدیں:
وفد ہفتے کے روز پاکستان پہنچا تھا، اور اس کا بنیادی مقصد اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کرنا تھا۔ ان کا ارادہ تھا کہ خاموش سفارتکاری کے ذریعے عمران خان کو درپیش قانونی اور سیاسی چیلنجز میں کسی ممکنہ ریلیف کی راہ نکالی جا سکے۔
2. ناکام کوششیں:
وفد نے اسلام آباد میں کئی دن گزارے، لیکن:
کسی اعلیٰ شخصیت سے ملاقات نہ ہو سکی۔
عمران خان تک رسائی ممکن نہ ہوئی۔
موجودہ سیاسی تناؤ کے باعث اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی کسی دلچسپی کا اشارہ نہیں ملا۔
3. گزشتہ کامیابیاں اور موجودہ حالات:
یہی وفد کچھ ماہ قبل پاکستان آیا تھا اور اس وقت عمران خان سمیت ایک اہم حکومتی شخصیت سے کامیاب ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ تاہم، اب حالات بدل چکے ہیں:
سیاسی فضا شدید کشیدہ ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کسی بھی براہ راست سیاسی مداخلت سے اجتناب برت رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی جارحانہ آن لائن مہمات، تنقید اور بیرونِ ملک لابنگ نے ماحول مزید بگاڑ دیا ہے۔
4. روابط اور مشکلات:
وفد نے پی ٹی آئی کی شخصیات جیسے علی امین گنڈا پور (وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا) اور علیمہ خان (عمران خان کی بہن) سے رابطے کیے، لیکن:
انہیں کوئی خاص رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
پارٹی کے سخت مؤقف نے بات چیت کا دروازہ بند کر دیا ہے۔
5. وفد کا تاثر اور مستقبل کا لائحہ عمل:
ذرائع کے مطابق:
وفد کو یقین ہے کہ عمران خان ان کی موجودگی سے باخبر ہیں۔
ممکن ہے وفد پاکستان میں اپنے قیام میں توسیع کرے۔
لیکن کوئی ملاقات طے نہ ہونے کی صورت میں وفد کی موجودگی اب صرف مفاہمتی امید کی علامت بن گئی ہے۔
یہ دورہ بتاتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج گہری ہو چکی ہے۔ سفارتی کوششیں، چاہے وہ خاموش ہی کیوں نہ ہوں، اب کسی مثبت پیش رفت کے بغیر تعطل کا شکار ہیں۔
یہ وفد اگرچہ اب بھی کوشش کر رہا ہے، لیکن موجودہ ماحول میں ‘خاموش مفاہمت’ کی گونج سنائی نہیں دے رہی۔



