“جس شخص کو عوام نے مسترد کر دیا، وہ آج ایک قومی رہنما کے خلاف زہر اُگل کر خبروں میں آنے کی کوشش کر رہا ہے۔”

حالیہ ایک ٹی وی پروگرام میں گلوکار اور نام نہاد سیاستدان جواد احمد کی پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سے ہونے والی جھڑپ نے سوشل میڈیا پر کچھ توجہ حاصل کی، لیکن وجہ محض جھگڑا یا تلخی نہیں تھی — اصل وجہ تھی جواد احمد کا غیرمہذب انداز اور عمران خان کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ۔

جواد احمد نے کہا:

“جس دن عمران خان میرے سامنے آئے گا، میں اس کی طبیعت صاف کر دوں گا… میں عمران خان کو تباہ کر کے رکھ دوں گا۔”

یہ الفاظ نہ صرف غیراخلاقی، غیرسیاسی اور غیرذمہ دارانہ تھے، بلکہ اُن کی شخصیت اور سیاسی مایوسی کی مکمل عکاسی بھی کرتے ہیں۔

✅ جواد احمد: گلوکار سے ناکام سیاستدان تک
جواد احمد نے ایک وقت میں چند مشہور گانے گائے تھے، لیکن جیسے ہی انہوں نے سیاست میں قدم رکھا، ان کا نام سننے والے حلقے محدود ہوتے چلے گئے۔ ان کی برابری پارٹی پاکستان (EPPP) نے کئی الیکشنز میں حصہ لیا، لیکن عوام نے مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ ان کے کسی امیدوار نے کوئی نمایاں ووٹ تک نہیں لیا — نہ قومی اسمبلی میں، نہ صوبائی حلقوں میں۔

جب عوام کی طرف سے کوئی پذیرائی نہ ملی، تو جواد احمد نے وہی طریقہ اپنایا جو اکثر غیر معروف شخصیات اپناتی ہیں: تنازع پیدا کرو، شور مچاؤ، اور کسی بڑے نام پر حملہ کرو تاکہ خبروں میں رہ سکو۔

✅ عمران خان: عوام کا لیڈر
عمران خان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ پاکستان کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے رہنما ہیں۔ ان کی بات لاکھوں لوگ سنتے ہیں، ان پر تنقید ہوتی ہے، تعریف ہوتی ہے، لیکن اُن کی عوامی حیثیت ایک حقیقت ہے۔

وہ وزیراعظم رہ چکے ہیں

ان کی جماعت نے حالیہ انتخابات میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی

عوامی جلسوں میں لاکھوں افراد اُن کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں

ایسے میں، جواد احمد کا یہ کہنا کہ وہ عمران خان کو “تباہ کر دیں گے” — ایک ایسی بات ہے جسے خود سن کر ہی ہنسی آتی ہے۔

✅ تنازع برائے شہرت — ایک پرانا ہتھکنڈہ
ایسے بیانات کا مقصد سیاست نہیں، بلکہ خبروں میں جگہ بنانا ہے۔ جب سیاسی میدان میں کوئی جگہ نہ بچے، جب عوامی حمایت ناپید ہو، اور جب تنظیم کے پاس نہ منشور ہو نہ کارکن، تب ایسے افراد “عمران خان مخالف بیانیہ” اختیار کر کے وقتی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہی کچھ جواد احمد کر رہے ہیں — وہ عمران خان پر چڑھ دوڑ کر خود کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

✅ برابری پارٹی کا زمینی وجود؟
سوال یہ ہے کہ برابری پارٹی کہاں ہے؟

عوامی نمائندگی صفر

ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر

نہ کوئی بلدیاتی نمائندہ

نہ میڈیا پر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے

یہ سچ ہے کہ جواد احمد کے سیاسی مستقبل سے زیادہ لوگ اُن کے گانے “او سانوں اک پل چین نہ آئے” کو یاد کرتے ہیں۔ افسوس، وہی چین آج ان کے سیاسی کیریئر سے بھی چلا گیا ہے۔

✅ نتیجہ: زہر نہیں، ظرف بولتا ہے
عمران خان پر تنقید کرنا ہر شخص کا حق ہے، مگر ذاتی حملے، دھمکیاں اور بازارو زبان سیاست کے دائرے سے باہر کی چیزیں ہیں۔ عوام جانتی ہے کہ کون لیڈر ہے اور کون صرف خبروں میں رہنے کی خواہش رکھتا ہے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں