“تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس بن گیا کشیدگی کا میدان — قائدین آپس میں الجھ پڑے، سلمان اکرم راجا سوالات کی زد میں آ کر اجلاس چھوڑ گئے!”
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کا حالیہ اجلاس اُس وقت ہنگامہ خیز صورت اختیار کر گیا جب پارٹی کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجا کو شدید سوالات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس میں موجود مختلف رہنماؤں نے ان پر اعتماد کا اظہار کرنے کے بجائے اُن کی پالیسیوں اور کردار پر سخت سوالات اٹھائے، جس کے نتیجے میں وہ اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔
کیا ہوا اجلاس میں؟
اجلاس کا مقصد پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور قانونی معاملات پر غور کرنا تھا، لیکن ماحول اس وقت کشیدہ ہو گیا جب بعض رہنماؤں نے سلمان اکرم راجا سے حالیہ عدالتی معاملات، قانونی حکمت عملی، اور پارٹی مؤقف کی نمائندگی سے متعلق وضاحتیں طلب کیں۔
سینئر قائدین نے مبینہ طور پر ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی، جن میں شامل تھے:
کیا پارٹی مؤقف صحیح انداز میں عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے؟
کیا قانونی ٹیم میں ہم آہنگی موجود ہے؟
کیا کچھ بیانات پارٹی لائن سے ہٹ کر دیے جا رہے ہیں؟
سلمان اکرم راجا کا ردعمل:
ذرائع کے مطابق، سوالات کے انداز اور لہجے سے سلمان اکرم راجا ناخوش دکھائی دیے اور بغیر کوئی وضاحت دیے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ اُن کے اس اقدام سے دیگر ارکان بھی حیران رہ گئے۔
پارٹی میں بڑھتی تقسیم؟
یہ واقعہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر منظرِ عام پر لاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب پارٹی کو اتحاد، حکمت اور مضبوط قانونی پوزیشن کی اشد ضرورت ہے، قائدین کا اس طرح آپس میں الجھنا اور ماہرینِ قانون پر تنقید کرنا پارٹی کے لیے نیک شگون نہیں سمجھا جا رہا۔
پی ٹی آئی ایک نازک سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں قانونی معاملات اور سیاسی بیانیے دونوں کو انتہائی محتاط انداز میں سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ سلمان اکرم راجا جیسے قانونی ماہر کی اجلاس سے ناراضی اور علیحدگی پارٹی کے اندر موجود غیر یقینی کی کیفیت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔



