“ایران کا سب سے طاقتور شخص، جسے عوام نہیں علما منتخب کرتے ہیں” — جانئے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کون ہیں اور کیسے بنتے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے اعلیٰ اور بااختیار رہنما ہیں۔ ان کی حیثیت نہ صرف مذہبی ہے بلکہ وہ ریاست کے تمام اہم سیاسی، فوجی اور عدالتی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کو بطور رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ اُس وقت وہ ایران کے صدر تھے اور کچھ حلقوں نے ان کی مذہبی صلاحیت پر سوالات بھی اٹھائے، مگر “مجلسِ خبرگانِ رہبری” نے انہیں منتخب کر کے اس منصب پر بٹھایا۔
یہ عہدہ عمر بھر کے لیے ہوتا ہے، اور اسے براہِ راست عوام نہیں بلکہ 88 ممتاز مذہبی علما پر مشتمل “مجلسِ خبرگان” منتخب کرتی ہے، جنہیں عوام ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں، مگر وہ خود خفیہ مشاورت سے رہبر کا تعین کرتے ہیں۔ یہ مجلس نہ صرف سپریم لیڈر کو منتخب کرتی ہے بلکہ اصولی طور پر اُس کی نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینے کی بھی مجاز ہے، اگرچہ عملی طور پر ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا اثرورسوخ ایرانی سیاست، پاسدارانِ انقلاب، عدلیہ، میڈیا، خارجہ پالیسی، اور حتیٰ کہ معیشت تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے حکم کے بغیر ایران میں کوئی بڑا فیصلہ ممکن نہیں۔ بین الاقوامی امور میں بھی وہی آخری بات کرتے ہیں، اور ایران کی اسرائیل و امریکہ پالیسی کی بنیادی سمت ان ہی کے بیانیے سے طے ہوتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جو ایران کو بظاہر ایک جمہوریت مگر درحقیقت ایک “ولایت فقیہ” کے نظام کے تحت چلاتا ہے، جس میں حتمی طاقت ایک فقیہ، یعنی سپریم لیڈر کے ہاتھ میں مرتکز ہوتی ہے۔




