“نون لیگ کا نکاح تو اقتدار سے ہو گیا، لیکن ابھی رخصتی عوام کی جیبیں خالی دیکھ کر ٹل گئی!”
نون لیگ کا نکاح ہو چکا ہے، بڑی دھوم دھام سے، میڈیا نے شادی کارڈ بھی بانٹ دیے، پنڈال بھی سجا دیا، لیکن رخصتی؟ وہ اب تک مؤخر ہو رہی ہے کیونکہ جہیز کی لسٹ میں جو وعدے لکھے تھے، وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔
جہیز میں لکھا تھا:
-
بجلی سستی کریں گے
-
آٹا، چینی وافر اور سستا ہوگا
-
نوجوانوں کو روزگار ملے گا
-
معیشت چمک اٹھے گی
-
ادارے آزاد ہوں گے
لیکن ہوا یوں کہ دولہا حضرات خود IMF کے در پر جھولی پھیلائے بیٹھے ہیں، اور بیانیہ کا سُوٹ کہیں لانڈری میں پڑا ہے۔ دولہن (عوام) تو کب کی انتظار میں بیٹھی ہے کہ کب رخصتی ہوگی اور کب خوش خبری ملے گی… مگر نہ بینڈ آیا، نہ بارات، نہ خوشی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ:
-
مہنگائی جہیز سے بھی بڑی ہو چکی ہے
-
پٹرول کی قیمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ باراتی پیدل چلنے پر مجبور ہیں
-
اور “ووٹ کو عزت دو” کا بیانیہ نکاح کے دن ہی طلاق لے چکا ہے!
قوم پوچھتی ہے:
“آخر کب تک نکاح کا بہانہ بنا کر عوام سے قربانی لی جاتی رہے گی؟ کیا ہر الیکشن کے بعد ہمیں صرف ‘مہندی’ کی خوشبو اور قرضوں کی زنجیر ہی ملے گی؟”



