آزاد کشمیر کے تاریخی ورثے کی حالت زار — آثار قدیمہ کے روڑز اور پل، نااہل حکمرانوں کی بے توجہی کے شکنجے میں!

آزاد کشمیر قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ ایک قدیم ثقافتی ورثے کا بھی حامل ہے۔ یہاں کے تاریخی روڑز، پل اور دیگر آثار قدیمہ نہ صرف علاقے کی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ سیاحت اور مقامی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آزاد کشمیر کی حکومت ان قیمتی ورثوں کی حفاظت اور مرمت کی جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔

تاریخی روڑز اور پلوں کی موجودہ حالت
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں ایسے کئی پل اور روڑز موجود ہیں جن کی عمر کئی صدیوں پر محیط ہے۔ یہ تاریخی ساختیں نہ صرف تعمیراتی حسن کی مثال ہیں بلکہ اس خطے کی تاریخی شناخت کا حصہ بھی ہیں۔ تاہم، بد انتظامی اور فنڈز کی کمی کے باعث یہ پل و روڑز زبوں حالی کا شکار ہیں۔

کئی پلوں کے ٹوٹ پھوٹنے کے باعث آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تاریخی روڑز پر مرمت نہ ہونے کی وجہ سے وہ کھنڈر میں بدل رہے ہیں، جس سے سیاحتی آمدنی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

حکومت کی نااہلی اور عوامی ناامیدی
آزاد کشمیر کی حکومت کی طرف سے اس اہم مسئلے پر سنجیدہ اقدامات نہ کرنا عوام میں شدید مایوسی کا باعث ہے۔ لوگ نااہل حکمرانوں سے نجات اور بہتر انتظامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ان تاریخی ورثوں کو بچایا جا سکے۔

مرمت کے لیے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر

منصوبہ بندی میں شفافیت کا فقدان

مقامی سطح پر ٹھیکیداروں اور متعلقہ اداروں کی نااہلی

ان عوامل نے مل کر آزاد کشمیر کے تاریخی ورثے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سیاحت اور معاشی ترقی کا موقع ضائع
آزاد کشمیر قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ تاریخی ورثے کی بدولت سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہو سکتا ہے۔ اگر ان تاریخی مقامات کی مناسب دیکھ بھال اور مرمت کی جائے تو نہ صرف مقامی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
آزاد کشمیر کی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان تاریخی روڑز اور پلوں کی مرمت اور بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ یہ نہ صرف علاقائی تاریخ کی حفاظت کا معاملہ ہے بلکہ اقتصادی ترقی اور مقامی آبادی کی بھلائی کا بھی سوال ہے۔ نااہل حکمرانوں کی بے عملی سے بچ کر ایک شفاف، محنتی اور جواب دہ انتظامیہ کی ضرورت ہے جو اس ورثے کو زندہ رکھ سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں