“بجٹ 2025 کے بعد امپورٹ ڈیوٹی میں نرمی اور روپے کی قدر میں بہتری سے امریکا سے لائی گئی Toyota Tundra کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔”
پاکستان میں حالیہ وفاقی بجٹ 2025-26 کے بعد مارکیٹ میں ایک دلچسپ رجحان دیکھنے میں آیا — خصوصاً امپورٹڈ ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی۔ انہی میں سے ایک نمایاں مثال Toyota Tundra ہے، جو کہ امریکہ سے امپورٹ کی جاتی ہے۔ صارفین اور آٹو ڈیلرز حیران ہیں کہ بجٹ کے بعد اس گاڑی کی قیمت میں کمی کیسے ممکن ہوئی، حالانکہ عمومی تاثر یہ ہوتا ہے کہ ہر سال بجٹ کے بعد چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔
✅ 1. بجٹ میں امپورٹ ڈیوٹیز میں کمی:
وفاقی حکومت نے بجٹ میں کچھ خاص کیٹیگریز کی امپورٹڈ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور کسٹمز ٹیکس میں کمی کی۔ اگرچہ حکومت کا ہدف ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیاں تھیں، لیکن بعض بڑے انجن والی گاڑیاں، جیسے Tundra (جو اکثر 5.7L یا 3.5L V6 ہوتی ہے)، بھی اس کیٹیگری میں شامل ہو گئیں۔ نتیجہ: گاڑی کی امپورٹ لاگت کم ہو گئی۔
✅ 2. روپے کی قدر میں بہتری:
بجٹ کے دوران اور اس کے فوراً بعد روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوئی۔ مثال کے طور پر، اگر پہلے 1 USD = 295 PKR تھا، اور بجٹ کے بعد یہ 275 PKR ہو گیا، تو گاڑی کی قیمت میں لاکھوں روپے کی کمی ممکن ہوئی، کیونکہ امپورٹ کی ادائیگیاں ڈالر میں ہوتی ہیں۔
✅ 3. مارکیٹ کلیئرنس اور قیمت ایڈجسٹمنٹ:
بہت سے آٹو ڈیلرز نے بجٹ کے بعد قیمتیں کم کیں تاکہ پرانا اسٹاک جلد بک جائے اور نئے بجٹ کے مطابق ایڈجسٹمنٹ ہو سکے۔ اس کا فائدہ عام خریدار کو ہوا، خاص طور پر اُنہیں جو Tundra جیسی ہیوی گاڑیاں لینے کے خواہش مند تھے۔
✅ 4. اسکیمز اور خصوصی مراعات:
اگر Toyota Tundra Roshan Digital Scheme یا دیگر مراعاتی پروگراموں کے تحت لائی گئی ہو تو ان پر اضافی ڈیوٹی نہ ہونے کے باعث قیمت میں کمی آئی ہو سکتی ہے، اور بجٹ نے اس سلسلے کو مزید آسان بنا دیا۔
Toyota Tundra کی قیمت میں کمی محض اتفاق نہیں، بلکہ یہ ایک مجموعی معاشی اور حکومتی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ بجٹ میں ٹیکس ریلیف، روپے کی بہتر قدر، اور مارکیٹ فورسز کے امتزاج نے پاکستانی صارفین کے لیے اس طاقتور امپورٹڈ گاڑی کو نسبتاً سستا بنا دیا ہے۔




