1998 سے 2011 تک عمران خان کے بیانات کا معیار اور آج کے حالات — اکبر ایس بابر کا تجزیہ
اکبر ایس بابر، جنہیں پاکستانی میڈیا میں ایک معتبر تجزیہ کار اور تجربہ کار صحافی کے طور پر جانا جاتا ہے، نے عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیانات میں تبدیلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق:
’’1998 سے 2011 تک عمران خان کے بیانات بالکل مختلف معیار کے حامل ہوتے تھے۔ خود عمران خان اپنے بیانات لکھتے تھے اور پھر خود میڈیا کو جاری کرتے تھے۔ اگلے دن اخبار میں وہی بیان خود پہلی بار پڑھتے تھے۔ اس دوران پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم کو کبھی بھی ملک دشمن بیان بازی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا گیا۔ ایک ایسی سیاسی تہذیب قائم تھی جس میں بیانات کی ذمہ داری لینے کا کلچر تھا۔ کسی بھی فرد یا گروپ کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایسی زبان بولے جو ملک کی سلامتی یا وقار کو نقصان پہنچائے۔ یہ ایک سنجیدہ اور سوچ سمجھ کر سیاسی بیانیہ تھا جو پارٹی کی مقبولیت اور اعتماد کی بنیاد تھا۔‘‘
لیکن افسوس کے ساتھ اکبر ایس بابر نے یہ نوٹ کیا ہے کہ آج کے حالات مختلف ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
’’آج کل کے بیانات میں ایک ایسا زہر گھلا ہوا ہے جو ملک دشمنی کے رنگ سے بھرپور ہے۔ پارٹی کے بعض بیانات میں وہی زبان اور لہجہ استعمال ہوتا ہے جو پہلے سختی سے روکا جاتا تھا۔ یہ تبدیلی نہ صرف پارٹی کے سیاسی کردار کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ملک کی سیاسی فضا کو بھی زہریلا بنا رہی ہے۔‘‘
اکبر ایس بابر کے اس بیان کی گہری نوعیت
اکبر ایس بابر کا یہ تجزیہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی ساکھ اور عوامی اعتماد کا دارومدار اس کی تقریروں اور بیانات کی معیاری اور ذمہ دارانہ نوعیت پر ہوتا ہے۔ جب سیاسی قائدین اور پارٹی کے ترجمان اپنی زبان پر قابو پاتے ہیں اور ملک کے مفادات کو مقدم رکھتے ہیں تو وہ سیاسی استحکام کا باعث بنتے ہیں۔
اس کے برعکس، اگر بیانات میں توہین آمیز، مبالغہ آرائی یا ملک دشمنی کے عناصر شامل ہو جائیں تو یہ نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔
عمران خان اور پی ٹی آئی کے بیانات میں تبدیلی کی ممکنہ وجوہات
سیاسی ماحول کی تبدیلی:
پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے، جس کے باعث سیاسی جماعتوں کی تقریریں بھی زیادہ جارحانہ اور جذباتی ہو گئی ہیں۔
مقابلہ بازی اور پاپولزم:
سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے سخت بیانات اور جارحانہ رویہ اختیار کر رہی ہیں تاکہ ووٹروں کو متاثر کیا جا سکے۔
پارٹی کے اندرونی مسائل:
پی ٹی آئی کے اندر مختلف دھڑے اور گروپ بھی ہیں جو اپنی علیحدہ سیاست کرتے ہیں، جس سے پارٹی کا بیانیہ متفرق اور بعض اوقات متنازع ہو جاتا ہے۔
میڈیا کا کردار:
میڈیا کا بھی اثر ہے، جہاں سنسرشپ کم اور ہائپر بولی (زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا) زیادہ ہو گئی ہے، جس سے بیانات کی نوعیت سخت ہو جاتی ہے۔
اکبر ایس بابر کا یہ بیان سیاسی قیادت کو ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ بیانات کی ذمہ داری لینا سیاسی فہم و فراست کا تقاضہ ہے۔ پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانات میں سنجیدگی اور ملک کی سلامتی کو مدنظر رکھیں تاکہ سیاسی عدم استحکام اور انتشار سے بچا جا سکے۔
اگر عمران خان اور پی ٹی آئی اپنی پرانی ذمہ داری اور تہذیب کو واپس لائیں تو نہ صرف پارٹی کی عزت بڑھے گی بلکہ ملک کی سیاسی فضا بھی بہتر ہو گی۔



