“جن کا سایہ یا ماضی کا سایہ؟ نئی پاکستانی ہارر فلم نے پہلی جھلک میں ہی توجہ کھینچ لی۔”

پاکستانی فلم انڈسٹری میں ہارر صنف ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہے، لیکن اس بار ’ملا‘ اور اس کے منفرد عنوان جیسی جھلکیاں ناقدین کو مایوس نہیں کر سکیں۔ فلم کی ابتدائی جھلکیوں نے ناظرین میں سنسنی، تجسس اور خوف کا امتزاج پیدا کیا ہے — کچھ ایسا جو پاکستانی سنیما میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔

فلم کی کاسٹ انتہائی مضبوط ہے:
سونیا حسین، فیصل قریشی، جاوید شیخ، ثمینہ پیرزادہ اور بشریٰ انصاری جیسے بڑے نام اس پروجیکٹ میں شامل ہیں، جو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ اداکاری کے میدان میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔

کہانی ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہے جس پر “جن کا سایہ” ہے — ایک ایسا سایہ جو محض کسی فرد پر نہیں بلکہ پورے گھرانے پر اپنی دہشت مسلط کیے ہوئے ہے۔

یہ فلم رائٹر عائشہ مظفر کی پہلی کاوش ہے، جب کہ رافع راشدی اس سے قبل دو فلمیں بنا چکے ہیں۔ فلم کی جھلکیاں دیکھنے کے بعد ذہن میں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے:
“یہ خیال آیا کیسے؟”
اس سوال کا جواب بی بی سی اردو نے فلم کے ڈائریکٹر رافع راشدی سے کینیڈا کے شہر اوکویل میں ملاقات کے دوران حاصل کیا۔

انھیں ہارر فلم بنانے کا خیال کیوں آیا؟
رافع راشدی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خوف کی کہانیاں ہمیشہ موجود رہی ہیں — چاہے وہ بچوں کی لوریاں ہوں یا دیہات کی روایتیں۔ لیکن سنیما میں انھیں سنجیدگی سے برتنے کی کمی رہی ہے۔ انھوں نے یہ خلا پر کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں پاکستان کی ہارر فلموں کا تجربہ — مثلاً ’ذبح خانہ‘ — تنقید اور طنز کا شکار رہا ہے، لیکن نئی فلم کی پروڈکشن ویلیو، کہانی اور اداکاری اسے سنجیدگی سے لینے پر مجبور کرتی ہے۔
’ملا‘ محض ایک ہارر فلم نہیں، بلکہ یہ ایک نئی صنف میں پاکستانی سنیما کی قدم رکھتی ہوئی جھلک ہے، جو خوف اور حقیقت کے درمیان ایک نیا راستہ تراشنے کی کوشش کرتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں