“ہروپ ڈرون کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اسے دشمن کی نظر سے بچاتے ہوئے خطرناک حملوں کا آلہ بنا دیتی ہے۔”

اسرائیلی ساختہ ہروپ ڈرون (IAI Harop) ایک جدید “کامی کازی” یا “لوئٹرنگ منیشن” ڈرون ہے، جسے اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز نے تیار کیا ہے۔ یہ ڈرون دشمن کے ریڈار سسٹمز اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے خود کو ہدف پر گرا کر تباہ کرتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں اس ڈرون کو مار گرایا گیا، جس سے اس کی خصوصیات اور فضا میں اس کی نشاندہی کی مشکلات پر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔
ہروپ ڈرون کی خصوصیات
خودکش حملہ آور ڈرون: ہروپ ڈرون خود ایک ہتھیار ہے جو ہدف پر جا کر خود کو تباہ کرتا ہے، جس سے دشمن کے ریڈار یا دیگر اہم تنصیبات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

طویل پرواز کی صلاحیت: یہ ڈرون 6 سے 9 گھنٹے تک فضا میں رہ سکتا ہے اور 1000 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے، جس سے یہ دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل ہوتا ہے۔

دوہری کنٹرول موڈ: یہ ڈرون خودکار طریقے سے ریڈار سگنلز پر حملہ کر سکتا ہے یا آپریٹر کی نگرانی میں بصری اور حرارتی کیمروں کی مدد سے اہداف کا انتخاب کر سکتا ہے۔

23 کلوگرام وارہیڈ: اس کا وارہیڈ 23 کلوگرام وزنی ہوتا ہے، جو دشمن کے اہم اہداف کو مؤثر طریقے سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فضا میں نشاندہی کی مشکلات
اسٹیلتھ ڈیزائن: ہروپ ڈرون کا ڈیزائن اسٹیلتھ خصوصیات کا حامل ہے، جس سے اس کا ریڈار کراس سیکشن کم ہوتا ہے اور یہ ریڈار پر نظر نہیں آتا۔

چھوٹا سائز اور کم شور: اس کا سائز چھوٹا اور انجن کا شور کم ہوتا ہے، جس سے یہ فضا میں خاموشی سے حرکت کر سکتا ہے اور دشمن کے دفاعی نظاموں سے بچ سکتا ہے۔

ریڈار سگنلز پر انحصار: یہ ڈرون دشمن کے ریڈار سگنلز پر حملہ کرتا ہے، لیکن اگر ریڈار بند کر دیا جائے تو یہ اپنے بصری اور حرارتی سینسرز کی مدد سے ہدف تلاش کرتا ہے، جس سے اس کی نشاندہی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

8 مئی 2025 کو پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں 25 بھارتی ڈرونز کو مار گرایا، جن میں ممکنہ طور پر ہروپ ڈرونز بھی شامل تھے۔ یہ واقعہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد پیش آیا، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا، لیکن پاکستان نے اس کی تردید کی۔
ہروپ ڈرون کی جدید ٹیکنالوجی، اسٹیلتھ ڈیزائن اور خودکش حملے کی صلاحیت اسے ایک خطرناک ہتھیار بناتی ہے، جس کی فضا میں نشاندہی اور تباہی ایک چیلنج ہے۔ پاکستان میں اس کی موجودگی خطے میں ڈرون ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں