“پاکستان کے اعلیٰ حکام کی ایران سے مضبوط سفارتی روابط، خطے میں دوستی اور تعاون کی عکاس ہیں۔”
“پاکستان نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ بھارت اپنی غیر متوازن پالیسی سے ایران جیسا قابلِ اعتماد دوست بھی کھو بیٹھا۔”
پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے قریبی اور باہمی احترام پر مبنی رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں اس دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے اعلیٰ حکام نے اہم سفارتی اقدامات کیے ہیں۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے لاہور میں واقع ایرانی قونصل خانے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی سفارتی عملے سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
اسی طرح، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایرانی سفیر سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین نے دو طرفہ تعلقات، تجارتی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کی۔ سندھ اور ایران کے درمیان تجارتی روابط کو مزید فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا تاکہ خطے کی معاشی ترقی کو مشترکہ طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔
پاکستان اور ایران کی دوستی کی بنیادیں:
یہ دورے اور ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی، ثقافتی اور سماجی سطح پر بھی گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون بڑھ رہا ہے
تجارت، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر بات چیت جاری ہے
ثقافتی تبادلے اور بین الاقوامی فورمز پر یکجہتی کا مظاہرہ ہو رہا ہے
خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم:
پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطے میں امن، استحکام، اور مشترکہ ترقی کے لیے ایک اہم ستون سمجھتا ہے۔ یہ تعاون صرف دوطرفہ نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے بھی مفید ہے۔
پاکستان کے گورنر پنجاب اور سندھ کے حالیہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ یہ تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔



