ہنگامہ خیز ایوان، سیاسی جنگ عدالتوں تک جا پہنچی.
پنجاب اسمبلی ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کا مرکز بن گئی ہے، جہاں اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکینِ اسمبلی پر ہنگامہ آرائی کے الزام میں لگنے والے جرمانے اور معطلی کو لے کر اپوزیشن نے اب عدالت کا رخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر ملک احمد بھچر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ وہ نہ صرف جرمانے کو عدالت میں چیلنج کریں گے، بلکہ پارٹی کسی بھی دباؤ یا ریفرنس سے مرعوب نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اُنھیں ایک سال کے لیے بھی معطل کر دیا جائے، پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کو کسی ایوان کی ضرورت نہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل پنجاب اسمبلی کے 26 اپوزیشن اراکین کو 15 اجلاسوں کے لیے معطل کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی، نعرے بازی، ایجنڈا پیپرز پھاڑنے اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی کی۔
جواباً سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے الیکشن کمیشن کو ان اراکین کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ایوان میں بدتمیزی کی تمام حدیں پار کیں اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضابطے سب کے لیے برابر ہیں، اور ایوان کو غنڈہ گردی سے نہیں چلنے دیا جا سکتا۔
یہ سیاسی کشمکش نہ صرف اسمبلی کی کارروائی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس کا قانونی اور آئینی رخ اب عدالت میں بھی زیرِ بحث آنے والا ہے۔



