امریکی صدر کے دعوے اور ایران کی پوزیشن: مذاکرات کا متوازن نقطہ نظر

ایران کے نائب وزیر خارجہ عراقچی کا ٹرمپ کو سخت پیغام، کہا ’اگر معاہدہ چاہتے ہیں تو ایرانی رہنما کے خلاف توہین آمیز زبان بند کریں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا خواہاں ہے، اور انہوں نے کہا کہ ایران کے کچھ جوہری مراکز کو نقصان پہنچنے کے بعد یہ رجحان مزید مضبوط ہوا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ایران مذاکرات کی طرف آنا چاہتا ہے۔

تاہم، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس بیان کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ایران کی ترجیح اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے جاری رکھنا ہے اور وہ فی الحال امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خواہش نہیں رکھتا۔

بی بی سی فارسی کے مطابق، امریکی صدر نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی یا کوئی اور معتبر ادارہ ایران کے متاثرہ جوہری مقامات کا معائنہ کرے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران اب جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور وہ عالمی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پورا کر رہا ہے۔ اس نکتے پر دونوں طرف سے بات چیت اور اعتماد سازی کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں