دنیا حیران ہے — اور شاید خود تاریخ بھی — کہ “وقتِ امن” کا آغاز اب بمباری سے ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ، جو الفاظ کو توڑ مروڑ کر نیا فلسفہ تخلیق کرنے میں ماہر ہیں، ایک بار پھر میدان میں اترے اور تین نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کو امن کی بنیاد قرار دے دیا۔
کاش اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بھی لکھا ہوتا کہ:
“امن اگر نہ آئے، تو بم گرا دو — شاید پھر آئے۔”
ٹرمپ کا کہنا ہے: “فل پے لوڈ آف بمبز” گرایا گیا — گویا کسی ہالی وُڈ ایکشن فلم کا سین ہو، اور وہ خود اسکرین پلے لکھنے والے ہوں۔
ایسا لگتا ہے کہ عالمی جغرافیہ بھی اب ٹرمپ کی ٹویٹس کے تابع ہے — جہاں ایک بٹن دباؤ، تین شہر جلاؤ، اور اعلان کرو: “Congratulations to our brave pilots!”
فردو، نطنز اور اصفہان کی نیوکلیئر تنصیبات پر بمباری کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ امن، صرف تب ہی ممکن ہے جب سب کچھ راکھ ہو جائے۔
شاید آنے والی نسلیں جب یہ سطر پڑھیں گی کہ:
“امریکہ نے بم گرائے تاکہ دنیا کو سکون ملے”،
تو وہ تاریخ نہیں، فکشن سمجھے گی۔
لیکن ٹرمپ کے پیروکار اس فکشن کو بھی حقیقت سمجھتے ہیں — اور شاید یہی وہ خوفناک طنز ہے جو آج کی دنیا میں مزاح بن چکا ہے۔



