دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا اسپتال: طبی انقلاب یا خطرہ؟

چین نے دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والا اسپتال، جسے “ایجنٹ اسپتال” کا نام دیا گیا ہے، لانچ کر دیا ہے۔ یہ اسپتال سنگھوا یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے اور یہاں 14 AI ڈاکٹرز اور 4 AI نرسز مکمل طور پر خدمات انجام دیتے ہیں، جو تشخیص سے علاج تک ورچوئل مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، وہ بھی انتہائی تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ۔

یہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، جو کہ بڑے زبان ماڈلز پر مبنی ہیں، امریکی میڈیکل امتحان کے سوالات میں 93 فیصد سے زیادہ اسکور کر چکے ہیں اور چند دنوں میں 10,000 مریضوں کا علاج کر سکتے ہیں، جو انسانی ڈاکٹروں کے لیے کئی سالوں کا کام ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اسپتال میڈیکل اسٹوڈنٹس کے لیے ورچوئل تربیتی پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

ماہرین اس ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو سراہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی مضبوط ضوابط اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔

کیا یہ ٹیکنالوجی طبی میدان میں انقلاب لائے گی یا انسانی ڈاکٹرز کے لیے خطرہ ثابت ہوگی؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں