“ایشیا کپ کی تیاریوں پر سوالات ضرور ہیں، مگر یہی ٹیم کل کو ورلڈ کپ کی کہانی بدلے گی!”
ایشیا کپ 2025 بس چار دن کی دوری پر ہے۔ جہاں دیگر ٹیمیں ایک منظم حکمت عملی اور واضح ٹیم کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنے جا رہی ہیں، وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی روایتی بے یقینی اور تجرباتی کمبی نیشن کے ساتھ اسی امید پر ہے کہ “ٹیلنٹ ہی کافی ہے”۔
یہ ماننا پڑے گا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی تیاریاں قابلِ رشک نہیں ہیں۔ مسلسل تبدیلیاں، سینئر کھلاڑیوں کی انجریز، اور نئے لڑکوں پر انحصار نے ٹیم کو ایک “work in progress” بنائے رکھا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مینجمنٹ ابھی تک یہی طے نہیں کر سکی کہ اصل Playing XI ہونی کس شکل میں چاہیے۔
نئے چہرے، نئی امیدیں:
مگر کرکٹ میں ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ کھیلنے کا تجربہ ہی اصل اعتماد دیتا ہے۔ ایشیا کپ میں شامل کئی نوجوان چہرے، جو شاید آج بے چینی اور ناتجربہ کاری کا شکار ہیں، یہی لڑکے اگلے برس ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تک اس پائے کے کھلاڑی بن چکے ہوں گے کہ ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔
بیٹنگ لائن میں نئے تجربات (اوپننگ میں نئے کمبی نیشن، مڈل آرڈر میں نئے چہرے)
فاسٹ بولنگ میں نئی رفتار مگر کم تجربہ
سپن اٹیک جو ابھی تک پُراعتماد نہیں لگتا
یہ تمام خلا ایشیا کپ کے دوران ایک امتحان ضرور ہوں گے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اصل تجربہ ناکامیوں اور دباؤ والے میچز سے ہی آتا ہے۔
ناتجربہ کاری کا بہانہ ختم ہو جائے گا:
آج اگر ہم ایشیا کپ میں پرفارمنس نہ دے سکیں تو “ناتجربہ کاری” ایک جواز بن سکتا ہے، مگر اگلے سال ورلڈ کپ سے قبل یہی جواز ناکام ہو چکے گا۔
یہی پلیئرز اگلے چند ماہ میں انٹرنیشنل لیگز، ہوم سیریز اور ٹورز کھیل کر اتنا تجربہ حاصل کر چکے ہوں گے کہ کم از کم “دباؤ میں آ جانا” جیسا عذر قابلِ قبول نہیں رہے گا۔
پی سی بی مینجمنٹ کو اب تسلسل دینا ہو گا، تاکہ یہی کھلاڑی اگلے ورلڈ کپ تک ایک مستحکم ٹیم بن سکیں۔
ریاستی اور عوامی دباؤ:
ایشیا کپ میں اگر ٹیم ناکام ہوتی ہے تو میڈیا، عوام اور کرکٹ بورڈ کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آئے گا۔ مگر دانشمندی یہ ہے کہ اس ٹیم کو جلد بازی میں توڑنے کی بجائے اس کی خامیوں پر کام کیا جائے، کیونکہ یہی ٹیم اگر تسلسل کے ساتھ کھیلتی رہی تو 2026 تک ایک پختہ اور خطرناک یونٹ بن سکتی ہے۔
آج جو ٹیم غیر متوازن اور ناتجربہ کار لگ رہی ہے، یہی ٹیم اگلے برس ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ ایشیا کپ ایک سیکھنے کا موقع ہے، لیکن اس کے بعد بہانے ختم ہو جائیں گے۔ ورلڈ کپ کے لیے ابھی سے بنیاد رکھنا ہو گی، ورنہ نتائج کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم خود ہوں گے۔




