“یہ صرف مشرق وسطیٰ کا مسئلہ نہیں، پوری دنیا کے امن کا سوال ہے” — وزیرِاعظم پاکستان کا عالمی برادری کو فوری اقدام کا مطالبہ۔

پاکستان کے وزیرِاعظم نے اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، اور بڑی طاقتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔

وزیرِاعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اگر قابو میں نہ لائی گئی تو یہ عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق، اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کام کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو ایک اور تباہ کن تنازعے سے بچایا جا سکے۔

پاکستانی حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ہر اس کوشش کی حمایت کرے گی جو پرامن مذاکرات اور سفارتی حل کی جانب لے جائے، اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔ وزیرِاعظم نے فلسطینی عوام اور مظلوم اقوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ حق و انصاف کے اصولوں پر کھڑا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید فضائی اور میزائل جھڑپیں جاری ہیں، اور خطے میں موجود کئی ممالک حالتِ الرٹ پر ہیں۔ وزیرِاعظم کا بیان عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کرتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے، بات چیت ہی مسائل کا واحد دیرپا حل ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں