توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دو گواہوں کے بیانات قلمبند
اسلام آباد کی عدالت میں توشہ خانہ کیس (حصہ دوم) کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
⚖️ توشہ خانہ کیس نمبر 2 – پس منظر:
یہ کیس توشہ خانہ سے ملنے والے قیمتی تحائف (تحفے) کی مبینہ غیر قانونی فروخت، چھپانے یا غلط ڈیکلیریشن سے متعلق ہے۔ یہ مقدمہ اس سے پہلے سامنے آنے والے پہلے توشہ خانہ کیس کا تسلسل ہے، جس میں عمران خان کو سزا بھی سنائی گئی تھی (بعد ازاں معطل/زیرِ سماعت)۔
👥 سماعت کی تفصیلات:
-
عدالت میں نیب کی جانب سے دو گواہوں کو پیش کیا گیا۔
-
ان گواہوں نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔
-
بیانات میں بتایا گیا کہ کس طرح قیمتی اشیاء، جن میں زیورات، گھڑیاں، اور دیگر قیمتی تحائف شامل تھے، توشہ خانہ سے حاصل کیے گئے اور مبینہ طور پر ان کی فروخت یا تفصیلات کو چھپایا گیا۔
🔍 اہم نکات:
-
عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں اس کیس میں شریک ملزم ہیں۔
-
کیس کا تعلق اُن تحائف سے ہے جو غیر ملکی دوروں کے دوران ملے اور جنہیں ذاتی استعمال یا فروخت کے لیے توشہ خانہ سے خریدا گیا۔
-
نیب نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی اور معلومات کو چھپایا گیا۔
🧑⚖️ اگلی پیش رفت؟
-
آئندہ سماعت پر مزید گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔
-
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کو جرح کا موقع بھی دیا جائے گا۔
-
عدالت یہ جانچ رہی ہے کہ آیا قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔
🗣️ سیاسی و قانونی اثرات:
-
عمران خان کے خلاف یہ کیس ان کے دیگر قانونی مقدمات کی فہرست میں ایک اور سنگین اضافہ ہے۔
-
اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ نااہلی، سزاؤں اور پارٹی پوزیشن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
-
بشریٰ بی بی کا اس کیس میں بطور ملزم شامل ہونا ایک حساس اور منفرد قانونی موڑ ہے، کیونکہ وہ خاتونِ اول رہ چکی ہیں۔
“توشہ خانہ 2 کیس میں گواہوں کے بیانات سے مقدمے نے اہم رخ اختیار کر لیا ہے، اب عدالتی کارروائی مزید تیز ہو گی اور ممکنہ نتائج عمران خان کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔”



