بلوچستان کے کچھ علاقوں میں ماسک پہن کر یا چہرہ ڈھانپ کر سفر کرنے پر پابندی عائد

ضلع کوئٹہ، پشین اور کیچ کے کچھ مخصوص علاقوں میں انتظامیہ نے ماسک پہن کر یا چہرہ پوری طرح ڈھانپ کر سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا مقصد سیکیورٹی خدشات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا دہشت گردانہ واردات سے بچاؤ کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

۱. پابندی کی حدود اور نوعیت
حکام نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کے چند حساس اضلاع میں رات اور دن کے اوقات دونوں میں چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنا یا نقاب/ماسک پہن کر گاڑی یا بس میں سفر کرنا ممنوع ہو گا۔

یہ پابندی سڑکوں اور مرکزی شاہراہوں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے بازاروں اور دیہی راستوں پر بھی لاگو ہوگی۔

پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو ایف آئی آر درج کرنے اور علاقائی پولیس اسٹیشن منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

۲. نافذ کرنے والی انتظامی ذمے داریاں
ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر مقامی ہیڈ کانسٹیبلری اور لیویز اہلکار گشت بڑھا دیں گے۔

خصوصی فلیگ ڈاؤن چیک پوسٹس پر مسافروں سے شناختی دستاویزات کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر کوئی مسافر اپنا چہرہ مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے پایا گیا، تو اسے قریبی تھانے منتقل کیا جائے گا۔

علاقائی پولیس اور سی ٹی ڈی (Counter Terrorism Department) کی ٹیمیں مشترکہ طور پر رات ۱۰ بجے کے بعد سڑکوں پر گشت کریں گی۔

۳. پابندی کے پیچھے سیکیورٹی وجوہات
گزشتہ چند ماہ کے دوران شکارپور اور کوئٹہ کے آس پاس سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں کچھ حملہ آور نقاب یا ماسک پہن کر اپنی شناخت چھپاتے رہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلا وجہ چہرہ ڈھانپنے والے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں، اس لیے وقت سے پہلے ان پر کڑی نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

محکمہ داخلہ کے ڈی جی نے بیان جاری کیا کہ یہ اقدام دہشت گردوں اور مجرمانِ خطرناک کے خلاف ایک مؤثر قدم ہے تاکہ وہ آزادانہ نقل و حرکت سے قاصر رہیں۔

۴. رعایات اور مستثنیات
بچے (۱۲ سال سے کم) اور بزرگ (۶۵ سال سے زائد) افراد کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے تاکہ انسانی ہمدردی اور طبی ضروریات کا خیال رکھا جا سکے۔

مذہبی رسومات کے لیے نقاب پہننے والی خواتین کو بھی خصوصی اجازت ہوگی، البتہ انہیں شناخت دکھانے کے بعد موبائل چیکنگ پوسٹ سے گزرنا ہوگا۔

سرکاری افسران اور ایمبولینس عملہ پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے، لیکن ان پر خصوصی شناختی بیجز یا گاڑیوں کے سائرن لازمی ہوں گے۔

۵. عوامی ردِ عمل اور تحفظات
بعض تاجروں اور شہریوں نے اعتراض کیا ہے کہ بناوجہ کی پابندی عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر بزرگ اور بچے کرفیو زون سے گزرتے ہوئے مشکلات کا شکار ہوں گے۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے تنقید کی ہے کہ اس طرح کی پابندیاں عام شہریوں پر پڑنے والی ضمانتِ آزادی کو محدود کرتی ہیں اور معصوم لوگوں کو بھی ہراساں کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، مقامی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ پابندی عمرین مؤقت ہے اور سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے پر اسے ختم کر دیا جائے گا۔

۶. آئندہ لائحہ عمل
ڈپٹی کمشنر نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ حکام کا مکمل تعاون کریں اور اگر انہیں کسی بھی مشکوک سرگرمی یا شخص کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر متعلقہ تھانے کو آگاہ کریں۔

سیکیورٹی فورسز نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ پابندی کی خلاف ورزی پر موثر کارروائی کریں گے تاکہ امن و امان برقرار رہ سکے۔

چند روز کے اندر ریویو کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ پابندی کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے اور مستقبل کے تقاضوں کو طے کیا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں