ٹی وی فیس کی مد میں آمدن بند، وزارت اطلاعات کو مالی بحران کا سامنا!
اسلام آباد: بجلی کے بلوں میں شامل ٹی وی فیس ختم کیے جانے کے فیصلے کے بعد وزارت اطلاعات و نشریات کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق، اس فیس کے خاتمے سے سرکاری نشریاتی اداروں—خصوصاً پاکستان ٹیلی ویژن (PTV)—کی آمدن میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے ادارے کے آپریشنز اور ملازمین کی تنخواہوں سمیت دیگر اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل 35 روپے ماہانہ ٹی وی فیس سرکاری نشریاتی اداروں کی بنیادی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ تھی۔ سالانہ بنیادوں پر اس مد میں اربوں روپے حاصل ہوتے تھے، جو اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کے اثرات نہ صرف PTV بلکہ ریڈیو پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق، وزارت اطلاعات نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے متبادل فنڈنگ ماڈل یا سبسڈی کی درخواست کی ہے، تاکہ سرکاری نشریاتی ادارے اپنے پروگرامز کی نشریات، ملازمین کی تنخواہیں، اور تکنیکی بہتری کے منصوبے بغیر رکاوٹ جاری رکھ سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو سرکاری نشریاتی اداروں کی کارکردگی اور خودمختاری شدید متاثر ہو سکتی ہے، اور ممکن ہے کہ ان اداروں کو اپنی نشریات محدود کرنی پڑیں۔
واضح رہے کہ عوام کی شکایات کے بعد اور مہنگائی کے دباؤ کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت نے حالیہ بجٹ میں بجلی کے بلوں میں سے یہ فیس ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے شہریوں نے تو سراہا، مگر سرکاری اداروں کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا مالی جھٹکا ثابت ہوا ہے۔



