“عمر کا طعنہ یا مشورہ؟ روبی انعم کے بیان نے بشریٰ انصاری کی وڈیوبلاگنگ پر نئی بحث چھیڑ دی!”

یہ بات روبی انعم نے اداکارہ صبیح سُمیر کی پوڈکاسٹ میں کہی، جہاں انہوں نے میڈیا انڈسٹری، سینئر فنکاروں اور موجودہ ڈیجیٹل رجحانات پر اپنی رائے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں فنکاروں کو پیچھے ہٹ کر آرام کرنا چاہیے، نہ کہ ہر وقت کیمرہ اٹھائے یوٹیوب یا سوشل میڈیا کے پیچھے بھاگنا چاہیے۔

📹 بشریٰ انصاری کا یوٹیوب سفر:

بشریٰ انصاری نہ صرف پاکستان کی لیجنڈری اداکارہ ہیں بلکہ وہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل میڈیا پر بھی فعال ہیں۔ ان کے ولاگز پاکستان سمیت بیرون ملک کے مختلف کلچرل و ٹریول تجربات پر مبنی ہوتے ہیں، جنہیں مداح کافی پسند کرتے ہیں۔ ان کا یوٹیوب چینل لاکھوں فالورز پر مشتمل ہے۔

🔥 سوشل میڈیا پر ردعمل:

روبی انعم کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا:

حمایت میں: کچھ صارفین نے روبی انعم کی بات کو درست قرار دیا کہ ہر عمر کا ایک وقار ہوتا ہے، اور ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کو ترجیح دینی چاہیے۔

مخالفت میں: دیگر صارفین نے اس بیان کو “عمر پرستی” (ageism) قرار دیتے ہوئے کہا کہ فنکار کی تخلیقی صلاحیت کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ جذبے سے ہوتا ہے۔ بشریٰ انصاری ایک ورکنگ لیجنڈ ہیں اور ان کی جدت پسندی قابلِ تعریف ہے۔

یہ بیان عمر کے ساتھ جڑے معاشرتی تصورات اور ڈیجیٹل آزادی پر ایک بڑی بحث کو جنم دیتا ہے:

کیا عمر کے ایک مرحلے پر آ کر خود کو محدود کر لینا چاہیے؟

کیا معاشرہ سینئرز کی فعال شمولیت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟

کیا بشریٰ انصاری جیسی فنکارہ صرف ایک خاص فریم تک محدود رہیں یا آگے بڑھ کر نئے میدان فتح کریں؟

روبی انعم کا بیان ایک ذاتی رائے ہو سکتا ہے، مگر اس نے ایک اہم موضوع کو اُجاگر کیا ہے — “عمر کی بنیاد پر تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کرنا”۔ بشریٰ انصاری اپنی زندگی کے اس مرحلے پر بھی فعال، تخلیقی اور متحرک ہیں، اور ان کی ڈیجیٹل موجودگی نئی نسل کے لیے ایک متاثر کن مثال بن چکی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں