“امریکہ نے بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات منسوخ کر دیے — ایک عالمی سطح پر نئی چوٹ”

امریکہ نے بھارت کے ساتھ طے شدہ تجارتی مذاکرات جو 25 سے 29 اگست 2025 تک نئی دہلی میں ہونے والے تھے، اچانک منسوخ کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی اور بعض معاملات میں مجموعی طور پر 50 فیصد تک ٹیکس عائد کر رکھا ہے، جس نے تجارتی تعلقات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

یہ کشیدہ صورتحال بھارت کی روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے پیدا ہوئی، جسے صدر ٹرمپ نے مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ مذاکرات کی پانچ دور سے زیادہ کوششیں ناکامی سے دوچار رہیں، خاص طور پر بھارت کے زراعت اور ڈیری سیکٹرز کو کھولنے پر عدم رضامندی کے باعث۔

نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کی تقریباً 190 بلین ڈالر سالانہ تجارت اور 46 بلین ڈالر کا امریکی تجارتی خسارہ معلق ہو گیا۔ یہ رویہ اقوام متحدہ میں دوست ممالک کو علیحدہ کر کے بھارت کو تنہا کر دینے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔

اقتصادی اور سیاسی مضمرات

برآمدات کے لیے خطرہ: امریکی ٹیکسوں کی کشیدگی نے جیولری، ٹیکسٹائل، فوٹویئر اور جواہرات جیسے اہم شعبوں کو شدید دھچکا دیا ہے، ان کی برآمدات میں نصف تک کمی کا خطرہ سنگین اقتصادی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

علاقائی توازن اور اسٹریٹجک اثرات: اس فیصلے سے بھارت-امریکہ کے قریبی تعلقات متزلزل ہوئے ہیں، جس کا اثر کوآرڈینیٹڈ علاقائی بلاکس جیسے Quad اور Indo-Pacific کی حکمت عملی پر بھی پڑ سکتا ہے۔ بھارت تیزی سے چین اور روس کی طرف کھنچ رہا ہے۔

مودی حکومت کی حکمتِ عملی: مقبوضہ بھارتی وزیر اعظم نے عوام سے سواستھی (Swadeshi) پالیسی کے تحت مقامی مصنوعات کی حمایت کرنے کی اپیل کی اور کسانوں، ماہی گیروں اور مقامی صنعتوں کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ GST میں کمی اگست کے بعد شروع کی جائے گی تاکہ اقتصادی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

امریکی موقف میں سختی: صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ مذاکرات تب تک نہیں ہونگے جب تک ٹیکسوں کا معاملہ حل نہ ہو جائے۔ یہ بڑا ثالثانہ موقف مذاکراتی عمل کو غیر یقینی کے گھیرے میں ڈال رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں