امریکا کا دعویٰ: ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کی۔
امریکی دفاعی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی منصوبہ بندی کی تھی، جو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی تھی۔ اس دعوے کے مطابق ایران کی یہ تیاری بحری تجارت کو متاثر کرنے اور علاقائی طاقتوں پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی کا حصہ تھی۔
🔹 امریکا کا مؤقف:
امریکی بحریہ کے انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق ایران نے اپنی انقلابی گارڈ فورسز کے تحت کئی بحری یونٹس کو تیار حالت میں رکھا تھا جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ممکنہ طور پر اسرائیل یا مغربی اتحادیوں کے خلاف کسی بڑے ردعمل کے طور پر لیا جا سکتا تھا۔
🔹 ایران کی پوزیشن:
ایرانی حکام نے اس دعوے پر براہ راست ردعمل نہیں دیا، تاہم ایران ماضی میں بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ خلیجی پانیوں میں اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور آبنائے ہرمز کو بند کرنا ان کے پاس ایک “آخری آپشن” کے طور پر موجود ہے۔
🔹 عالمی تشویش:
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی رسد گزرتی ہے۔ اس گزرگاہ میں بارودی سرنگوں کی موجودگی نہ صرف تیل کی ترسیل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
🔹 امریکی ردعمل:
امریکی نیوی نے علاقے میں اپنی موجودگی کو بڑھا دیا ہے اور بارودی سرنگوں کا پتا لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے والے خصوصی بحری جہاز تعینات کیے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایرانی اقدام کا فوری جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔



