امریکی ڈیفنس کمپنی لاک ہیڈ مارٹن F -35 کا ایسا ورژن پلان کر رہی ہے جسے بغیر پائلٹ کے اڑايا جا سکے۔ انڈین پائلٹس میں خوشی کی لہر
امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مشہور نسلِ پنج خام F-35 لڑاکا جیٹ کا ایک نیا ورژن تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے بغیر پائلٹ کے بھی فضائی مشن انجام دینے کی صلاحیت حاصل ہو گی۔ اس خبر نے خاص طور پر انڈین فضائیہ کے پائلٹس کے درمیان خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس کے متعدد دفاعی اور عملی فوائد بھارت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
پسِ منظر: F-35 کی اہمیت اور جدیدیت
F-35 کا عالمی کردار
F-35 لائٹنینگ II ایک چوتھی نسل کا اسٹیلتھ جےٹ ہے جو دشمن کے ریڈار سے بچتے ہوئے طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ تین مختلف ورژنز (A, B, C) میں دستیاب ہے، جو فضائی بیسز، بحری جہازوں اور ایمبرکڈ مشنز کے مطابق ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
انڈین فضائیہ میں F-35 کا شوق
اگرچہ ابھی تک بھارت نے باضابطہ طور پر F-35 خریدنے کا اعلان نہیں کیا، مگر اس کی ورکنگ ماڈلنگ اور تکنیکی تفصیلات بھارتی فوج کے اعلیٰ حکام اور پائلٹس چاروں طرف سے زیرِ غور رہیں۔ بھارت کی موجودہ لڑاکا جیٹوں (سو–30MKI، میراج-2000، رافیل) کے علاوہ F-35 کا حصول مستقبل میں ملک کی فضائی بالادستی کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
بے پائلٹ ورژن کی تیاری: کیا ہے نئی پیش رفت؟
خودکار فلائٹ کنٹرول سسٹم
لاک ہیڈ مارٹن اس پراجیکٹ میں جدید ترین اے آئی (مصنوعی ذہانت) اور آٹونومس نیویگیشن ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے تاکہ F-35 بغیر انساني مداخلت کے بھی اپنی پرواز کو مستحکم رکھ سکے۔ اس سسٹم میں حقیقی وقت کے ڈیٹا فیڈ کے ذریعے خودکار ہدف گیری اور ریٹرن ٹو بیس کے الگوردمز شامل ہیں۔
ریموٹ آپریشنل یونٹ
اس ورژن کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ریموٹ آپریشنل یونٹ (ریڈار اور سنسرز سے منسلک ایک کنٹرول سینٹر) بنایا جائے گا، جہاں بیٹھے اوپریٹرز دور بیٹھ کر ہی جےٹ کو مشن پر بھیج سکیں گے۔ خصوصاً خطرناک یا دور دراز علاقوں میں آن بورڈ پائلٹ کے جان کو لاحق خطرے کو ختم کرنا اس سوچ کا مرکزی مقصد ہے۔
اسٹریٹجک فوائد
خطرناک مشنز میں جانی نقصان سے بچاؤ: دشمن کی خلاف ورزی یا ایئر ڈیفنس سسٹمز کی موجودگی پر خالی طیارہ بھیج کر تشخیص اور سراغ رسانی کا کام کیا جا سکے گا۔
انتظامی لاگت میں کمی: ایک طیارے کو مکمل آپریشنل بنانے کے لیے تربیت یافتہ پائلٹ کے علاوہ دیگر معاون عملے کی ضرورت کم ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں طویل عرصے میں اخراجات میں کمی آسکتی ہے۔
ریئل ٹائم انٹیلی جنس: بغیر پائلٹ کے F-35 کو جدید سینسرز اور ڈیٹا لنک کے ذریعے براہِ راست اسٹریٹجک کمانڈ سنٹر سے منسلک کیا جائے گا، جس سے دشمنی کی سرگرمیوں کا فوری جواب دینا آسان ہوگا۔
انڈین پائلٹس کا جوش و خروش
مسرت اور توقعات
جب بھارت میں فوجی حلقوں میں یہ خبر پہنچی کہ لاک ہیڈ مارٹن ایک بے پائلٹ F-35 پر کام کر رہی ہے، تو انڈین فضائیہ کے متعدد پائلٹس نے اسے خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ:
“بغیر پائلٹ کے F-35 مشنز خاص طور پر چین کے سرحدی علاقوں یا پاکستانی فضائی حدود میں پیچیدہ صورتحال کے دوران بھی بھیجے جا سکتے ہیں، جہاں انسانی جان کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔”
تربیتی مواقع اور تکنیکی اشتراک
بھارت پہلے ہی اپنی جدید لڑاکا طیاروں کے لیے امریکی ٹیکنالوجی اور تربیت کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ بے پائلٹ F-35 کی صورت میں اشیاء کی نگہداشت اور سینسر فیڈز کا استعمال نئے تربیتی پروگراموں کی راہ ہموار کرے گا۔ انڈین پائلٹس کو اب ڈرون آپریشنز اور اے آئی بیسڈ نیویگیشن میں اپنی مہارت بڑھانے کا موقع ملے گا۔
دفاعی حکمتِ عملی میں شمولیت
بھارت کی نئی فضائی دفاعی دستاویزات میں “بغیر پائلٹ طیاروں” کا ذکر عمل میں آنے لگے گا۔ انڈین پائلٹس اور سینئیر افسران کا کہنا ہے کہ:
“اگر F-35 کا مکمل فنکشنل ورژن بھارت کی فضائی بیڑہ کا حصہ بن جاتا ہے تو ہم کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور ذہانت سے جواب دے سکتے ہیں۔ یہ چیلنجنگ مشنز کے لیے بہترین حل ہوگا۔”
عالمی منظرنامے پر اثرات
علاقائی طاقتوں کے مابین توازن
بے پائلٹ F-35 کے عملی تجربے نے چین اور پاکستان جیسی پڑوسی طاقتوں کو خبردار کر دیا ہے کہ بھارت اب جدید تکنیکی ٹیکنالوجی میں بھی اپنے دفاع کو مضبوط کر رہا ہے۔ اس سے فورس بیلنس میں نئی سوچ جنم لے گی۔
امریکی سرمایہ کاری اور مشترکہ ترقی
لاک ہیڈ مارٹن کا یہ پراجیکٹ امریکی دفاعی صنعت میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ بھارت سمیت دیگر حلیف ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے نت نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو امریکہ کے فوجی اتحاد کو مضبوط کریں گے۔
بین الاقوامی دفاعی مقابلہ
جب Americas کا سب سے جدید لڑاکا جیٹ بغیر پائلٹ کے اڑانے کی صلاحیت حاصل کر لے، تو دیگر ممالک بھی ایسی ٹیکنالوجیز پر کام تیز کریں گے۔ یورپی یونین اور روس میں بھی سابقہ پلانز کی تجدید ممکن ہو گی، اور اس سلسلے میں دفاعی مقابلہ مزید سخت ہو جائے گا۔
چیلنجز اور آئندہ کے راستے
تکنیکی مشکلات
بے پائلٹ F-35 کی ترقی میں کئی تکنیکی چیلنجز ہیں:
سائبر سیکیورٹی: کسی بھی دور دراز کنٹرول سینٹر پر حملہ یا سسٹم ہیک کیے جانے کا خطرہ، جو طیارے کو دشمن کے قبضے میں دے سکتا ہے۔
کم پلے تھانگ اور سینسرلیگ: طیارے کے سینسر اور ریموٹ لنک کو فعال حالت میں مسلسل برقرار رکھنا، تاکہ فضا میں ڈیٹا کمیونیکیشن میں خلل نہ ہو۔
پاور منیجمنٹ: طویل پرواز کے دوران ایڈوانسڈ پاور سسٹمز کا فعال رہنا، تاکہ مشن کے دوران بجلی کی سپلائی میں کبھی رکاوٹ نہ آئے۔




