وتن کا دو ٹوک اعلان: یوکرین میں تعینات غیر ملکی افواج “جائز ہدف” ہوں گی
روس کی سخت وارننگ — مغرب کو کھلا پیغام
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے میدانِ جنگ میں مغربی افواج کی ممکنہ تعیناتی کی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ:
“یوکرین میں موجود کوئی بھی غیر ملکی فوجی، روس کے لیے جائز فوجی ہدف ہوگا۔”
یہ بیان عالمی سطح پر کشیدگی کو نئی سطح پر لے جا سکتا ہے۔مغربی تجویز: یوکرین کو براہِ راست عسکری مدد
حال ہی میں کچھ نیٹو ممالک کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ یوکرین میں تربیتی یا غیر جنگی کردار کے لیے محدود مغربی افواج تعینات کی جا سکتی ہیں، تاکہ یوکرینی افواج کو جدید جنگی حکمت عملی، لاجسٹک مدد اور انٹیلیجنس فراہم کی جا سکے۔
پوتن کا مؤقف: خودمختاری اور سیکیورٹی کا مسئلہ
پوتن نے اس تجویز کو روس کی خودمختاری، قومی سلامتی اور جنگی پالیسی کے خلاف قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ:
-
یوکرین میں تعینات کوئی بھی غیر ملکی فوجی روسی میزائلوں اور توپ خانوں کا ہدف ہو سکتا ہے
-
نیٹو افواج کی موجودگی جنگ کو براہِ راست روس بمقابلہ نیٹو میں تبدیل کر سکتی ہے
-
روس اپنی جارحانہ عسکری حکمت عملی سے پیچھے نہیں ہٹے گا
ماہرین کا تجزیہ: یہ صرف بیان نہیں، سنگین خطرہ ہے
بین الاقوامی امور کے ماہرین اس بیان کو براہِ راست عسکری تصادم کی دھمکی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق:
-
یہ بیان مغرب کو روسی حدود کے قریب عسکری سرگرمیوں سے باز رکھنے کی کوشش ہے
-
روس یوکرین میں نیٹو کی براہ راست موجودگی کو “جنگی جارحیت” کے طور پر دیکھے گا
-
اس تناظر میں عالمی طاقتوں کو سفارتی حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی
عالمی ردعمل: مذاکرات یا محاذ آرائی؟
-
نیٹو اور امریکہ نے اب تک روس کے بیان پر محتاط ردعمل دیا ہے
-
کچھ یورپی ممالک یوکرین میں افواج بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں
-
اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فریقین سے “تحمل” اور “مذاکرات” پر زور دیا ہے
یوکرین صرف میدانِ جنگ نہیں، عالمی طاقتوں کا امتحان ہے
پوتن کا سخت مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ یوکرین کی جنگ اب صرف علاقائی تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ عالمی طاقتوں کی صف بندی کا مرکز بن چکی ہے۔
مغربی دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا:
کیا وہ براہِ راست تصادم کے لیے تیار ہے؟ یا پسِ پردہ سفارتی حل کی تلاش کرے گی؟



