ووٹ کی بولی لگانے کا انکشاف — جاوید ہاشمی نے 2024ء کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر پردہ چاک کر دیا!
پاکستانی سیاست کے سینئر ترین رہنماؤں میں شمار ہونے والے جاوید ہاشمی نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2024ء کے انتخابات کے دوران انہیں فون پر پیشکش کی گئی کہ “آپ کو ایک کروڑ روپے، 5 فارچونر گاڑیاں، اور مکمل انتخابی مہم دی جائے گی، بس آرام سے بیٹھیں، وی لاگ بنائیں، بولیں کچھ بھی، لیکن ووٹ کی ضرورت پڑی تو وہ ہمیں دینا ہوگا۔”
جاوید ہاشمی کے بقول یہ کال کسی ڈی آئی جی یا کرنل رینک کے افسر کی جانب سے تھی — ایک ایسا دعویٰ جو نہ صرف پاکستان میں جمہوریت پر سوالیہ نشان بناتا ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی انجینئرنگ کی ایک اور ممکنہ مثال بھی ہے۔
یہ بیان کیوں اہم ہے؟
جاوید ہاشمی کی سیاسی تاریخ: وہ پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں — چاہے وہ مشرف دور ہو یا عمران خان کی حمایت کا معاملہ۔
2024 کے انتخابات پر شکوک: یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ حالیہ انتخابات آزادانہ و شفاف نہیں تھے، بلکہ مخصوص نتائج حاصل کرنے کے لیے درپردہ معاملات طے کیے گئے۔
عوامی مینڈیٹ کی تضحیک: اگر کسی منتخب نمائندے کو وی لاگ بنانے اور آرام سے بیٹھنے کے بدلے فائدے دیے جا رہے ہیں تو پھر عوام کا ووٹ محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔
“ووٹ دو، جب ہمیں ضرورت ہو”
اس جملے کی معنویت خطرناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نمائندہ پارلیمان میں صرف ایک چہرہ ہو، جبکہ اس کی رائے، فیصلہ اور ووٹ کسی اور کے کنٹرول میں ہو۔ یہ پارلیمانی نظام کی کھلی توہین ہے، جس میں عوام کی رائے کو سرے سے غیر متعلقہ بنا دیا گیا ہے۔
ردِعمل اور خاموشی
حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا الزام سامنے آنے کے باوجود:
الیکشن کمیشن نے کوئی وضاحت طلب نہیں کی۔
عسکری اداروں نے اس پر کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا۔
عدلیہ یا پارلیمانی کمیٹی نے اس پر ایکشن نہیں لیا۔
یہ خاموشی بذاتِ خود اس نظام کی کمزوری کو عیاں کرتی ہے۔



