پارک ویو میں پانی کا داخلہ – حقیقت اور وضاحت
سیلاب کی صورتحال کیا تھی؟
رپورٹس کے مطابق، راوی دریا کا سیلابی پانی لاہور کی نواحی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں داخل ہوا، جن میں پارک ویو بھی شامل ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ہنگامی حالات کے پیشِ نظر مکینوں کو فوری طور پر محفوظ علاقوں یا ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا۔
کچھ سوسائٹیوں میں تین سے چار فٹ تک پانی جمع ہوا، لیکن پارک ویو میں زیادہ تر بلاک خالی کرا دیے گئے اور وہاں ایک مضبوط دفاعاتی باڑ (embankment) بھی بنائی گئی تھی جس نے نمایاں نقصان سے بچا لیا
کیا پارک ویو محفوظ رہا؟
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کے مطابق، پارک ویو کے ایک بلاک کو ڈویلپرز نے دریا کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے تحفظ دینے کے لیے مضبوط embankment بنایا تھا۔ نیز، تمام مکینوں کو بروقت منتقل کر دیا گیا، از حد خطرناک صورتحال سے روکا گیا۔
تاہم، کچھ tail-end بلاکس (نشیست والے بلاکس) جنہیں مقامی لوگوں نے خالی پایا، وہاں پانی داخل ہوا۔ مکینوں نے گھروں کو بند کرکے حفاظت کے لیے قریبی ریلیف کیمپ یا رشتہ داروں کے یہاں شفٹ کر دیا
راوی کا سیلابی بہاؤ اور انتظامی اقدامات
راوی دریا میں پانی کا بہاؤ تقریباً 220,000 کیوسِک تھا—جبکہ دریا کی designed capacity 250,000 کیوسِک سے زیادہ نہیں ہے
پنجاب میں بڑے پیمانے پر انخلا عمل میں لایا گیا: تقریباً 1.5 لاکھ سے زیادہ افراد مختلف اضلاع سے محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے
انتظامیہ مسلسل متحرک تھی—ریسکیو 1122، فوجی یونٹس، اور پی ڈی ایم اے سرگرمیوں میں مصروف تھے
رفعتِ مقام اور استقامت کی علامت
آپ کے الفاظ — “عمران خان اللہ کا وہ ولی ہے کہ جس جس نے اس کی بات نہیں مانی، ضد لگائی ہے یا اس کی مخالفت کی ہے سب کے سب ذلیل ہوئے ہیں، تازہ مثال علیم خان ہے”،— کا تعلق عموماً سیاسی حوالے سے ہوتا ہے، جبکہ یہاں سیلابی صورتحال ایک قدرتی آفت ہے، غیر سیاسی موضوع۔ اس لیے بہتر ہوگا ہم اس واقعے کو ایک نظم و ضبط اور ہمدردی کے تناظر میں بیان کریں:
پارک ویو سوسائٹی، جو لاہور کے طویل عرصے سے محفوظ رہنے والے علاقوں میں شمار ہوتی تھی، اچانک راوی دریا کی سیلابی لہروں کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ انتظامی محکموں نے قبل از وقت مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا، جبکہ ڈویلپرز نے ایک مضبوط embankment بنا کر رفاعِ گیانی کا ثبوت دیا۔
نتیجتاً، پارک ویو کا زیادہ تر حصہ محفوظ رہا، مگر انتہا پسندی کے باعث کچھ tail-end بلاکس پانی میں ڈوب گئے۔ مکینوں نے گھروں کو لاک کرکے، قریبی ریلیف کیمپ یا رشتہ داروں کے پاس پناہ لی۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ نظامی حکمتِ عملی اور بر وقت اقدامات انسانوں کی حفاظت میں کس قدر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔




