“ہمیں زندگی ملی ہے جینے کے لیے، نہ کہ جلد ختم ہونے کے لیے۔ تو پھر ہماری نسل کیوں وقت سے پہلے تھک گئی ہے؟”

ہمارے دادا دادی اور نانا نانی 90 اور 100 سال کی عمر تک صحت مند زندگی گزارتے تھے، جبکہ آج کے دور میں 30 اور 40 سال کے نوجوان ہارٹ اٹیک کا شکار ہو رہے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ وجہ بہت واضح ہے — ہماری طرزِ زندگی۔

پہلے لوگ سادہ غذا کھاتے تھے، کھانے میں مصنوعی اشیاء اور پراسیسڈ فوڈز کا کوئی دخل نہ تھا۔ آج فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، چینی اور نمک سے بھرپور ڈائٹ نے ہمارے جسم کو زہر دیا ہے۔

پہلے لوگ پیدل چلتے، محنت کرتے اور جسمانی مشقت کو معمول کی بات سمجھتے تھے۔ آج ہم گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں — دفتر میں لیپ ٹاپ، گھر آ کر موبائل، اور آرام کے نام پر نیٹ فلکس۔

نیند، جو جسم کی مرمت کا وقت ہوتا ہے، وہ اب سکون کے بجائے قربانی بن چکی ہے۔ رات گئے تک جاگنا اور پھر صبح بے وقت اٹھنا ہماری نیند کے سائیکل کو برباد کر رہا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر — ذہنی دباؤ (سٹریس)! روزمرہ کے کام، سوشل میڈیا کا پریشر، موازنہ، مقابلہ — یہ سب ہمارے دل و دماغ کو مسلسل تھکا رہے ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عمر بھی لمبی ہو، صرف سانس لینے کے لیے نہیں بلکہ صحتمند جینے کے لیے — تو ہمیں ابھی اپنی طرزِ زندگی بدلنی ہوگی۔ صحت مند خوراک، روزانہ کی ورزش، کم از کم 7 گھنٹے کی نیند، اور اسکرین سے وقفہ لینا زندگی کے چھوٹے لیکن اہم اصول ہیں۔

کیونکہ دل ایک بار رُک گیا، تو پھر صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے — موقع نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں