“جب سرحدیں بند ہوتی ہیں تو صرف زمینیں نہیں، دل اور بازار بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔”

واہگہ بارڈر بند ہونے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان زمینی تجارت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان زرعی اجناس، سیمنٹ، چمڑا، دوائیں اور سبزیوں کی محدود مگر اہم تجارت ہوا کرتی تھی، جو اب رک چکی ہے۔ اس بندش سے پاکستان میں مہنگائی بڑھی اور کئی صنعتی شعبے متاثر ہوئے، کیونکہ بھارت سے آسان اور سستی درآمدات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ بھارت کو بھی نقصان ضرور ہوا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پاکستانی اشیاء کی مانگ زیادہ تھی، مگر ان کی معیشت کے پھیلاؤ نے اس نقصان کو کم کر دیا۔ اصل تکلیف دونوں جانب کے چھوٹے تاجروں، مزدوروں اور عام عوام نے جھیلی، جو اس راستے سے جڑے ہوئے تھے۔ کچھ تجارت اب تیسرے ملکوں کے ذریعے مہنگے داموں ہو رہی ہے، مگر وہ پہلے جیسی سہولت اور رفتار مہیا نہیں کر سکتی۔ اگر مستقبل میں راستے کھلیں تو دونوں ممالک کی معیشتوں کے ساتھ ساتھ عوام کا بھلا بھی ممکن ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں