“جب دشمن کی فضائی برتری بھی ایرانی مزاحمت کو نہ جھکا سکی!”

“ایران کا اسرائیل پر تاریخ کا سب سے بڑا حملہ — سو سپر سونک میزائلز کی بارش!”

*ایران، ایک مرتبہ پھر، عالمی طاقتوں کے درمیان سینہ تان کر کھڑا ہے — کم وسائل، محدود ٹیکنالوجی، مگر ناقابلِ تسخیر مزاحمت کے ساتھ۔*
موجودہ ایران-اسرائیل تنازع میں اگرچہ عالمی میڈیا اور مغربی ذرائع زیادہ تر اسرائیل کی عسکری برتری کو اجاگر کر رہے ہیں، مگر زمینی حقائق اور بعض خطے کے تجزیہ نگاروں کے مطابق، ایران اس جنگ میں ایک خاموش لیکن **موثر برتری حاصل کرنے میں کامیاب** رہا ہے۔ یہ برتری محض میزائلوں یا ڈرونز کی تعداد میں نہیں، بلکہ اسٹریٹجک حکمتِ عملی، پراکسی نیٹ ورکس، داخلی استقامت، اور عالمی سفارتی توازن کے ذریعے قائم کی گئی ہے۔
ایران کا پہلا وار: دفاعی نہیں، جارحانہ ردعمل

ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد جس تیزی اور شدت سے جواب دیا، اس نے دنیا کو چونکا دیا۔
ایک ہی رات میں 370 سے زائد بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور خودکش ڈرونز داغے گئے۔ یہ حملے محض علامتی نہیں تھے — ان کا ہدف اسرائیل کی دفاعی اور سائنسی ریڑھ کی ہڈی تھا۔

* **ریہووَت میں موجود وائزمن انسٹیٹیوٹ آف سائنس** پر ایرانی میزائل حملے نے اس ادارے کی لیبارٹریز اور حیاتیاتی تحقیقاتی انفرااسٹرکچر کو تقریباً مفلوج کر دیا۔
* اسرائیلی میڈیا کی زبانی، “ایران نے ایسی تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں تک حماس یا حزب اللہ کبھی پہنچ نہیں سکے تھے”۔

یہ حملہ صرف فوجی نوعیت کا نہیں بلکہ *نفسیاتی دباؤ* کا آلہ بھی تھا — ایک پیغام کہ “ہم تمہاری حساس سائنسی برتری کو بھی چیلنج کر سکتے ہیں۔”
سرائیلی فضائی برتری کے باوجود ایرانی حملے کامیاب کیوں؟

یہ بات درست ہے کہ اسرائیل نے ابتدائی 48 گھنٹوں میں ایرانی فضائی دفاع کو نقصان پہنچایا، لیکن حیران کن طور پر ایران کی زمین سے زمین مار کرنے والی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس:

* ایران کے ڈرونز نے اسرائیلی رڈار نیٹ ورک کو دھوکہ دے کر کئی مقامات پر کامیاب حملے کیے۔
* آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلِنگ اور ایرو 3 جیسے دفاعی نظام، ایرانی راکٹوں اور ڈرونز کی بھرمار کے باعث دباؤ کا شکار ہو گئے۔
* کئی مواقع پر اسرائیلی میڈیا کو اپنے ہی شہریوں کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ “ہر چیز روکی نہیں جا سکتی تھی۔”
پراکسی نیٹ ورک — ایران کا “غیر روایتی” ہتھیار

ایران کا اصل ہتھیار صرف اس کی میزائل فورس نہیں بلکہ اس کے **علاقائی اتحادی اور پراکسی گروہ** ہیں:

* **لبنان میں حزب اللہ**، اسرائیل کی شمالی سرحد پر روزانہ حملے کر رہی ہے، جس نے اسرائیلی افواج کو “دو محاذی جنگ” میں الجھا دیا ہے۔
* **عراق و شام میں حشد الشعبی اور فاطمیون بریگیڈز** نے اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
* **یمن میں حوثی ملیشیا** بحیرہ احمر اور عرب بحری حدود میں اسرائیلی بحری مفادات پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

ایران نے ان تمام محاذوں کو ایک ہی وقت میں فعال کر کے اسرائیل کی توجہ تقسیم کر دی، اور جنگ کو اس کی سرزمین سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔
ایران کی حکمتِ عملی: سستی جنگ، مہنگی مزاحمت

ایران نے ایک ایسی جنگ چھیڑی ہے جو **کم قیمت مگر زیادہ اثر** رکھتی ہے:

* ڈرون اور راکٹ سستے ہیں، لیکن اسرائیل کو ان کو روکنے کے لیے لاکھوں ڈالر فی انٹرسپٹ خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔
* ہر آئرن ڈوم میزائل کی قیمت تقریباً \$40,000–\$100,000 ہے، جبکہ ایرانی ڈرون کی لاگت چند ہزار ڈالر سے زیادہ نہیں۔
* ایران *محدود خطرے* میں، اسرائیل *زیادہ اخراجات* میں ہے — یہ ایک اقتصادی مزاحمت کی مثال ہے۔
سفارتی برتری: ایران کا عالمی محاذ پر “نرم حملہ”

جبکہ اسرائیل نے امریکہ اور مغرب سے حمایت حاصل کی، ایران نے بھی خود کو عالمی سفارتی میدان میں تنہا نہیں چھوڑا:

* چین اور روس جیسے ممالک نے ایران کی “قومی خودمختاری” کا حوالہ دے کر اس کی پوزیشن کو نیم جواز دیا۔
* خلیجی ممالک، خصوصاً قطر اور عمان، ایران کے خلاف کسی واضح پوزیشن پر نہیں آئے — یہ ایران کے لیے خاموش حمایت ہے۔
* اقوامِ متحدہ میں ایران نے اسرائیلی حملوں کو “بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی” قرار دے کر سفارتی اخلاقی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی۔
: اسرائیل “ٹیکنیکل” برتری پر، ایران “تزویراتی” برتری پر

اگرچہ اسرائیل نے فضائی حملوں اور تکنیکی مہارت کے ذریعے چند گھنٹوں میں ایران کی بعض تنصیبات کو نقصان پہنچایا، مگر:

* ایران نے خطے کو غیرمستحکم کر کے اسرائیل کو عسکری، اقتصادی اور سفارتی دباؤ میں لا کھڑا کیا۔
* تہران کی قیادت ابھی تک میدان میں، مستحکم اور متحد نظر آ رہی ہے۔
* ایران نے جنگ کو محض سرحدی تنازع کی بجائے ایک *علاقائی اور نظریاتی تصادم* میں بدل دیا ہے، جہاں وقت کے ساتھ ساتھ برتری کا پلڑا کسی بھی طرف جھک سکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں