“جب جرم ثابت نہ ہو، تو بیماری بھی سزا بن جاتی ہے — عمران خان کا جرم شاید صرف سچ بولنا ہے!”

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: سیاست پر تفتیش یا صحت پر ترس؟

حال ہی میں عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں ان کی جسمانی صحت کے مسائل کی نشاندہی کی گئی —
لیکن سوال یہ نہیں کہ وہ بیمار ہیں،
سوال یہ ہے کہ کیا اس بیماری کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے؟

ایک ایسا شخص جس پر 190 سے زائد مقدمات درج کیے گئے،
جو ایک سال سے زائد عرصہ قید میں ہے،
اور جس نے ابھی تک کسی عدالت سے ریلیف نہیں لیا —
اسے اب “طبی بنیادوں” پر ہی شاید سانس لینے کا موقع ملے گا۔


🏚️ 2. بنی گالہ کی بات کیوں ہو رہی ہے؟

اب بعض رپورٹس کے مطابق یہ اشارے دیے جا رہے ہیں کہ
“عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طبی بنیادوں پر بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے”
یہ تجویز سیاسی نہیں، انسانی ہے — مگر اس پر بھی آوازیں اٹھیں گی۔

کیوں؟

کیونکہ عمران خان اگر اسپتال جائے تو یہ سہولت کہلاتی ہے،
مگر اگر دوسرا کوئی جائے تو انسانی حق!


⚖️ 3. کیا انصاف سب کے لیے یکساں ہے؟

ہم نے دیکھا:

  • ماضی میں نواز شریف بیماری کی بنیاد پر لندن چلے گئے

  • آصف زرداری اسپتال منتقل ہوئے

  • شہباز شریف جیل کے اندر AC اور اسپیشل بیڈ حاصل کرتے رہے

مگر جب عمران خان کی طبی حالت کا سوال اٹھتا ہے،
تو اسے “سہولت کاری” یا “ڈیل” کہا جاتا ہے۔

یہ دہرا معیار کب تک چلے گا؟


🧘‍♀️ 4. بشریٰ بی بی کا معاملہ: عورت کی تذلیل یا سیاسی انتقام؟

بشریٰ بی بی، جو ایک غیر سیاسی خاتون ہیں،
ان کا قید میں رہنا نہ صرف قانوناً سوالیہ نشان ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی قابلِ شرم۔

کیا انہیں بھی سیاسی دشمنی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے؟
کیا “سزا” صرف اس لیے ہے کہ وہ عمران خان کی اہلیہ ہیں؟

“عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اگر طبی بنیادوں پر بنی گالہ منتقل کیا جائے — تو یہ ریلیف نہیں، دیر سے دیا گیا انصاف ہوگا۔”

عمران خان کا جسم قید میں ہو سکتا ہے، مگر سوچ اور بیانیہ آج بھی بنی گالہ سے نکل کر ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں