“جب میں نے دریافت کیا کہ کون سا راستہ صحیح ہے، تو میرے بال سفید ہو گئے تھے۔” ~ نیکوس کازانتزاکس
انسانی زندگی ایک مسلسل تلاش کا نام ہے—حق، سچائی، اور راستگی کی تلاش۔ نیکوس کازانتزاکس کے اس مختصر مگر فکر انگیز جملے میں ایک پوری عمر کا تجربہ اور فکری پختگی سمائی ہوئی ہے:
**”جب میں نے دریافت کیا کہ کون سا راستہ صحیح ہے، تو میرے بال سفید ہو گئے تھے۔”**
یہ فقرہ محض وقت کے گزرنے کی علامت نہیں بلکہ **دانائی کی قیمت** ہے۔
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ صحیح اور غلط، آسان اور درست، اور حقیقت اور فریب کے درمیان تمیز کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔ یہ صلاحیت وقت، تجربات، مشاہدات اور اندرونی کشمکش کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔
بچپن اور جوانی میں ہم زندگی کو سادہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ صحیح اور غلط کی لکیر واضح ہے، سچائی تک رسائی آسان ہے، اور ہمیں جو سمجھ آ رہا ہے وہی حقیقت ہے۔ لیکن جیسے جیسے زندگی آگے بڑھتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ ہر راستے کے پیچھے کئی موڑ چھپے ہوتے ہیں، ہر فیصلہ اپنے ساتھ پیچیدگیاں لاتا ہے، اور ہر اصول کا اطلاق ہر موقع پر یکساں نہیں ہوتا۔
کازانتزاکس کا اقتباس دراصل اس انسانی تجربے کا خلاصہ ہے جہاں **انسان ٹھوکر کھاتا ہے، سوالات کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، اور پھر کہیں جا کر کسی سچائی کی جھلک پاتا ہے**۔ مگر تب تک “بال سفید ہو چکے ہوتے ہیں” — یعنی وقت کا قیمتی خزانہ بیت چکا ہوتا ہے۔
یہ اقتباس ایک **عالمی سچائی** کو چھوتا ہے:
حقیقی حکمت اور بصیرت وقت اور قربانی کے بغیر نہیں آتی۔
علم صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ **انسانی تجربات اور اندرونی جدوجہد** سے جنم لیتا ہے۔
یہ دانائی نوجوانوں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ جلد بازی میں فیصلے نہ کریں، اور یہ بوڑھوں کو یہ تسلی دیتی ہے کہ ان کی بصیرت عمر کا انمول حاصل ہے۔
آج کے تیز رفتار اور سطحی دور میں جہاں “فوری نتیجہ” ہی کامیابی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، وہاں کازانتزاکس کا یہ جملہ ایک **فکری وقفہ** ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
* اصل کامیابی صرف منزل پر پہنچنے میں نہیں،
* بلکہ اُس سفر میں ہے جس نے ہمیں شعور بخشا،
* جس نے ہمیں خود سے ملوایا۔
نیکوس کازانتزاکس کے یہ الفاظ ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم **زندگی کو ایک مسلسل سیکھنے کا عمل سمجھیں**، اور یہ مان لیں کہ **صحیح راستے کی تلاش خود ایک راستہ ہے**۔




