“جب جنگ کے بیچ صدارتی سیاست آڑے آئے — زیلینسکی کا ٹرمپ سے سامنا، امن یا دباؤ؟”
وکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی کی آج (پیر) کو اوول آفس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات ایک غیرمعمولی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف یوکرین کے لیے اہم موڑ ہو سکتا ہے بلکہ دنیا بھر میں اس جنگ کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
یہ ملاقات اس لیے بھی غیرروایتی ہے کہ ٹرمپ اس وقت امریکی صدر نہیں بلکہ صدارتی امیدوار ہیں، جبکہ زیلینسکی کا جھکاؤ اب تک بائیڈن انتظامیہ کی طرف رہا ہے، جو یوکرین کی سب سے بڑی عسکری اور مالیاتی مددگار ہے۔
⚠️ ٹرمپ کا ماضی کا مؤقف:
ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ روس-یوکرین جنگ کو 24 گھنٹے میں ختم کر سکتے ہیں — یہ دعویٰ ہمیشہ تنقید اور شکوک کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے یوکرین کو بے جا امداد دینے کی مخالفت کی اور نیٹو اتحادیوں پر بھی سخت مؤقف اپنایا۔
اب سوال یہ ہے کہ زیلینسکی ٹرمپ سے کیا امید کر سکتے ہیں؟
🔍 زیلینسکی کا دباؤ:
جنگ جاری ہے، وسائل ختم ہو رہے ہیں، عوام تھک چکے ہیں، اور یورپ کی سپورٹ بھی کمزور پڑ رہی ہے۔ زیلینسکی پر دباؤ ہے کہ وہ ہر ممکن سیاسی دروازہ کھٹکھٹائیں — حتیٰ کہ ٹرمپ جیسے غیر یقینی پارٹنر کے پاس بھی۔
🧭 یہ ملاقات کس کے فائدے میں؟
زیلینسکی کے لیے یہ کوشش ہو سکتی ہے کہ وہ اگلی امریکی حکومت سے پیشگی تعلقات قائم کر لیں۔
ٹرمپ کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ بائیڈن کی پالیسیوں کو ناکام ثابت کریں اور خود کو عالمی تنازعات کے حل کنندہ کے طور پر پیش کریں۔
یہ ملاقات صرف ایک رسمی مصافحہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی طاقت کے توازن کی از سر نو ترتیب کی جانب ایک اشارہ ہے۔ اگر ٹرمپ دوبارہ صدر بنتے ہیں، تو یوکرین کی جنگ کا نقشہ مکمل بدل سکتا ہے۔
زیلینسکی جانتے ہیں کہ ان کا اصل میدانِ جنگ اب میدان نہیں، بلکہ سیاست ہے — اور اوول آفس میں داخلہ اسی جنگ کا ایک اگلا مورچہ ہے۔



