“جب سندھ کا دروازہ افریقہ کی طرف کھلا، تو صرف مصافحہ نہیں ہوا — دو قوموں کے درمیان ترقی، تجارت اور ثقافت کا نیا باب رقم ہونے لگا۔”
کراچی کے گورنر ہاؤس میں ایک اہم ملاقات نے بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی راہ ہموار کی۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور ایتھوپیا کے سفیر کی یہ بیٹھک صرف رسمی مصافحے تک محدود نہ رہی، بلکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ملاقات ایک خوشگوار ماحول میں ہوئی جہاں دو ثقافتوں، دو خطوں اور دو مختلف معاشی پس منظر رکھنے والے ملکوں کے نمائندے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھے۔ گورنر سندھ نے ایتھوپیا کے سفیر کو سندھ کی اقتصادی و ثقافتی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا اور واضح کیا کہ کراچی صرف پاکستان کا معاشی مرکز ہی نہیں بلکہ ایک ایسا دروازہ ہے جو افریقہ سمیت دنیا کے کئی ممالک کی منڈیوں کے لیے کھلتا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری اور ثقافت جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ کامران ٹیسوری نے خاص طور پر سندھ میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی اور ایتھوپین سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ یہاں آ کر مختلف منصوبوں میں دلچسپی لیں۔ سفیر نے بھی اپنی طرف سے اس بات پر زور دیا کہ ایتھوپیا پاکستان کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں مختلف سطحوں پر وفود کے تبادلوں کی تجویز دی۔
بات چیت میں تعلیم کے شعبے پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں دونوں فریقین نے طلبہ کے تبادلے اور مشترکہ ریسرچ پروگرامز کے آغاز پر رضامندی ظاہر کی۔ اس کے علاوہ سیاحت اور ثقافتی میل جول پر بھی بات ہوئی، جس سے نہ صرف عوامی سطح پر تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی تہذیب و تمدن کو بہتر انداز میں جان سکیں گے۔
یہ ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان، خصوصاً سندھ، دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ عالمی منظرنامے میں سفارتی سرگرمیاں اب صرف دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ علاقائی سطح پر بھی تعلقات مضبوط کیے جا رہے ہیں — اور گورنر سندھ کی یہ کوشش اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔
سفیر ایتھوپیا نے اس موقع پر پاکستان کی مہمان نوازی اور دوستی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے وقتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید وسعت اختیار کریں گے۔
اس ملاقات کے نتیجے میں نہ صرف مستقبل کے امکانات روشن ہوئے، بلکہ ایک ایسا پیغام بھی دنیا کو گیا کہ پاکستان افریقی دنیا کے ساتھ معاشی، تعلیمی اور ثقافتی تعاون کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے — اور سندھ اس میں مرکزی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔



